نئی دہلی : (ایجنسی)
کانگریس کے سینئر لیڈر اور مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ دگ وجے سنگھ نے ہندو مسلم آبادی کی ریاضی کی وضاحت کرتے ہوئے ایک بیان دیا ہے جو بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ بدھ کو ایک تقریب کے دوران دگ وجے سنگھ نے ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 2028 تک ہندوؤں اور مسلمانوں کی شرح پیدائش برابر ہو جائے گی۔ دگ وجے سنگھ کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کی آبادی کی شرح ہندوؤں کی نسبت تیزی سے کم ہو رہی ہے اور سال 2028 تک ہندوؤں اور مسلمانوں کی شرح پیدائش برابر ہو جائے گی۔
مدھیہ پردیش کے سیہور ضلع میں کسان پدیاترا پروگرام کے دوران دگ وجے سنگھ نے یہ کہتے ہوئے کہا کہ مسلمان 4-4 بیویاں کرتے ہیں۔ ان سے درجنوں بچے پیدا ہوجاتےہیں اور 10-20 سال بعد مسلمان ملک میں اکثریت بن جائیں گے اور ہندو ؤں کو اقلیت ہو جانے کی بات کہہ کر ڈارتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں چیلنج کرتا ہوں کہ جو بھی مجھ سے بحث کرنا چاہیں وہ کر لیں۔ ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہ انہوں نے کہا کہ ایک اسٹڈی سے پتہ چلتا ہے کہ ملک میں مسلمانوں کی شرح پیدائش ہندوؤں کے مقابلے میں مسلسل گھٹ رہی ہے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ 1951 سے آج تک ہندوؤں کی شرح پیدائش میں اتنی تیزی سے کمی نہیں آئی جتنی مسلمانوں کی شرح پیدائش میں ہوئی ہے۔ لیکن آج بھی مسلمانوں کی شرح پیدائش 2.7 اور ہندوؤں کی شرح 2.3 ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2028 تک ملک کی آبادی مستحکم ہو جائے گی کیونکہ ہندو اور مسلمانوں کی شرح پیدائش برابر ہو جائے گی۔ دگ وجے سنگھ کے مطابق آبادی میں جو بھی اضافہ ہوگا وہ صرف 2028 تک ہوگا ، اس کے بعد ایسا نہیں ہوگا۔
اس موقع پر کانگریسلیڈر ملک کے وزیر اعظم اور بی جے پی کے سرکردہ رہنما نریندر مودی اور اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی کو نشانہ بنانا نہیں بھولے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف اویسی صاحب مسلمانوں کو دھمکیاں دے کر ووٹ کمانا چاہتے ہیں اور دوسری طرف ہندوؤں کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔
دگ وجے سنگھ نے کہا کہ جب نریندر مودی ہندوؤں کو خطرے میں بتاتے ہیں، اویسی مسلمانوں کو خطرے میں بتاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سچ یہ ہے کہ نہ ہندو اور نہ مسلمان خطرے میں ہیں ، صرف مودی اور اویسی خطرے میں ہیں۔









