لکھنؤ (ایجنسی)
ایس پی کے سربراہ اور اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو ان دنوں سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ پر شدید حملہ آورہیں۔ وہ یوپی میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے حوالے سے ایس پی آفس سے سوشل میڈیا پر بہت فعال نظر آرہے ہیں۔ اپنے خطاب کے دوران وہ بی جے پی حکومت پر حملہ بولتےہوئے کہہ رہے ہیں کہ اس حکومت نے صرف عوام کو لوٹنے کا کام کیا ہے۔ یوگی حکومت کو اسکول کا نام تبدیل کرنے پر نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نام بدلنے کا بھی نشہ ہوتا ہے ۔ نام بدلنے والے 100 فیصد بدلے جائیں گے۔
ایس پی سربراہ نے اپنے آفیشیل ٹوئٹر ہینڈل سے ایک ویڈیو جاری کیا ہے جس میں کچھ لوگ اسکول کے نام تبدیل کرنے کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں۔ اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے لکھا ہے کہ ابھینو ماڈل اسکول ، جانکی پورم ، لکھنؤ کا نام تبدیل کرنے پر کونسلر ، لوہیا واہنی اور سماج وادی چھاتر سبھا کا احتجاج اور غم و غصہ جائز ہے۔ نام بدلنے کا بھی نشہ ہوتا ہے ،یہ دنیا نے پہلی بار دیکھا ہے۔ نام بدلنے والے 100 فیصد بدلے جائیں گے ۔
اکھلیش یادو کے اس ٹویٹ پر کئی لوگوں نے اپنا رد عمل بھی دیا ہے۔ ایک ٹوئٹر صارف لکھتے ہیں کہ وہ تانسین نہیںنام بدل کر تاریخ بدلنا چاہتے ہیں ۔ ایک اور صارف نے لکھا ہے کہ جس نے اپنا خود نام بدل لیا ہو ان کو اور بھی چیزوں کا نام بدلنے سے فرق نہیں پڑتا ۔ بہرحال اترپردیش کےعوام اپنا من بنا چکےہیں بابا جی کو بدلنے کا ۔
بتادیں کہ کچھ دن پہلے سلطانپور کا نام بدلنے کی خبریں سامنے آئی تھیں تبھی اکھلیش یادو نے بی جے پی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ کوئی بڑی بات نہیں ہے اگر آپ ایٹاوا سے لکھنؤ آئیں تو آپ کا بھی نام بدل دیاجائے۔
انہوں نے بی جے پی حکومت کو رنگ وروغن والی سرکار بتاتے ہوئے کہا تھا کہ رنگ وروغن کروانا اور نام بدلوانے یوپی کے سی ایم کا نیا فیشن ہے ۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے الزام لگایا تھاکہ بی جے پی نے اترپردیش میں کوئی کام نہیں کیا ہے اب الیکشن کا وقت ہے اس لئے وہ عوام کے درمیان جاکر جھوٹ پھیلارہے ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی انہوںنے کہا تھا کہ اضلاع کی کیا کسی بھی محلے کا نام بدلا جاسکتا ہے ۔ گاؤں کابھی نام بدلا جا سکتا ہے ۔









