نئی دہلی : (ایجنسی)
سپریم کورٹ نے پیگاسس کیس کی تفتیش کے لیے ایک ماہر کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف جسٹس این وی رمن نے عدالت کو بتایا کہ اس سلسلے میں ایک حکم اگلے ہفتے جاری کیا جا سکتا ہے۔ بعض ماہرین نے ذاتی وجوہات کی بنا پر کمیٹی میں شرکت سے معذرت ظاہر کی ہے۔ اس کی وجہ سے احکامات کے جاری ہونے میں تاخیر ہو رہی ہے۔
سپریم کورٹ نے جمعرات کو زبانی طور پر کہا کہ وہ پیگاسس جاسوسی کیس کی تحقیقات کے لیے ایک تکنیکی ماہر کمیٹی تشکیل دے گا اور اس معاملے کی آزادانہ تفتیش کی درخواستوں پر اگلے ہفتے عبوری حکم جاری کرے گا۔ چیف جسٹس این وی رمن کی قیادت میں بنچ نے کہا کہ حکم اگلے ہفتے منظور کیا جائے گا۔
بنچ نے کہا کہ ہم اگلے ہفتے تک تکنیکی ماہر ٹیم کے ممبروں کے ناموں کو حتمی شکل دے سکیں گے اور پھر اپنا آرڈر پاس کر یں گے۔ یہ تبصرےکافی اہم ہے کیونکہ مرکز نے فون کی مبینہ جاسوسی کی شکایتوں کی جانچ کرنے کے لیے خود ماہرکمیٹی تشکیل کرنے کی پیشکش کی تھی۔
عدالت نے 13 ستمبر کو اپنا فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ صرف یہ جاننا چاہتی ہے کہ مرکز نے مبینہ طور پر شہریوں کی جاسوسی کے لیے پیگاسس کا جاسوسی سافٹ ویئر استعمال کیا یا نہیں ۔
جسٹس سوریہ کانت نے کہا تھا کہ ہم صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آپ یہ بتائیں کہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے یا پھر بتائیں کہ متعلقہ ایجنسی کی اجازت سے ہوا ہے یا پھر یہ بتائیں کہ غیرملکی ایجنسی نے ایسا کیا ہے ؟ اگر ایسا ہے تو پھر یہ سب کے لئے پریشانی کی بات ہے ۔ ہم صرف اتناکہنا چاہتے ہیں کیا سرکار نے قانون سے بالاتر کوئی طریقہ کار استعمال کیا ہے یا نہیں؟
مرکز نے جاسوسی تنازع کی آزادانہ تحقیقات کے لیے دائر درخواستوں پر قومی سلامتی کا حوالہ دیتے ہوئے تفصیلی حلف نامہ داخل کرنے سے سختی سے انکار کر دیا تھا۔ آزادانہ تحقیقات کی درخواستوں کا تعلق ان رپورٹس سے ہے کہ سرکاری اداروں پر الزام ہے کہ انہوں نے بعض نامور شہریوں ، سیاستدانوں اور صحافیوں پر اسرائیلی کمپنی این ایس او کے جاسوسی سافٹ ویئر پیگاسس کا استعمال کیا۔
ایک بین الاقوامی میڈیا ایسوسی ایشن نے اطلاع دی تھی کہ پیگاسس سافٹ ویئر کا استعمال کرتے ہوئے جاسوسی کی ممکنہ فہرست میں 300 سے زیادہ تصدیق شدہ بھارتی موبائل فون نمبر موجود ہیں۔









