نئی دہلی :(ایجنسی)
اترپردیش اے ٹی ایس نے معروف عالم دین کلیم صدیقی کو تبدیلی مذہب کے الزام میں میرٹھ سے گرفتار کیا ہے۔ یوپی کے اے ڈی جی لا ءاینڈ آرڈر پرشانت کمار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے یہ جانکاری دی۔ اے ڈی جی کے مطابق مظفر نگر کے پھلت گاؤں سے تعلق رکھنے والے مولانا کلیم صدیقی کے مبینہ طور پر عمر گوتم سے روابط تھے۔ پھلت کے مشہور مدرسہ کے منتظم معروف اسلامی اسکالر مولانا کلیم صدیقی ایک نجی پروگرام کے سلسلے میں کل رات میرٹھ آئے تھے۔ وہیں سے انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ اب اس معاملے پر مسلم تنظیموں اور سیاسی لیڈران کے رد عمل سامنے آئے ہیں۔
سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ شفیق الرحمٰن برق نے بھی مولانا کلیم صدیقی کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے مولانا کی گرفتاری پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یوپی میں یوگی حکومت مسلمانوں کو ہراساں کرنے کا کام کررہی ہے۔ وہیں کانگریس لیڈر راشد علوی نے تبدیلی مذہب کے الزام میں گرفتار مولانا کلیم صدیقی کا دفاع کیا۔ راشد علوی نے الزام لگایا کہ اترپردیش پولیس کو ایمانداری کےساتھ کام کرنے نہیں دیا جارہا ہے۔
وہیں دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ظفر السلام خان نے مولانا کلیم صدیقی کی گرفتاری کو سیاسی داؤ پیچ قراردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے آئین کے مطابق تمام لوگوں کو اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے اور اس کی تعلیمات کو عام کرنے کا حق ہے۔ ظفرالسلام نے کہا کہ مولانا پر جو تبدیلی مذہب کے الزامات لگائے گئے ہیں وہ سراسر غلط ہیں۔
اسٹوڈنٹ اسلامک آرگنائزیشن ایس آئی اوکے صدر محمد سلمان نے اسلامک اسکالر کلیم صدیقی کی گرفتاری پر سوال اٹھایا ہے۔ محمد سلمان احمد نے کہا ہے معروف عالم دین مولانا کلیم صدیقی اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری ہندوتوا طاقتوں کی جانب سے بین المذاہب مکالموں کو روکنے اور یوپی انتخابات سے قبل فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دینے اور کی ایک اور کوشش ہے۔ دوستانہ بین المذاہب مکالموں کے ذریعے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے کی کوششوں کے باعث مولانا کلیم صدیقی کو مختلف مذاہب کے ماننے والے لوگ عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی مختلف اقوام کے درمیان موجود عدم اعتماد کی فضا کو دور کرنے اور ایک دوسرے کو بہتر انداز میں سمجھنے کے لئے وقف کر رکھی ہے۔ اس الزام میں کوئی حقیقت نہیں ہے کہ انہوں نے زبردستی یا کسی خاص غرض سے لوگوں کا تبدیلِ مذہب کرایا۔یوپی اے ٹی ایس کے ذریعہ درج کی گئی ایف آئی آر مکمل طور پر جعلی اور فرضی ہے۔
ہمارا ماننا ہے کہ مولانا صدیقی کو یوپی حکومت نے انتخابی فوائد کے لئے بلی کا بکرا بنایا ہے۔ ہم اِس طرح کی گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہیں اور ملزمین کی فوری رِہائی کی اپیل کرتے ہیں۔ بے گناہ مسلمانوں پر مسلسل ظلم و ستم قابل مذمت ہے اور اسے فوری طور پر روکا جائے۔ اس طرح کی کارروائیاں صرف بدامنی کی فضا پیدا کریں گی اور ملک کے سماجی تانے بانے کے لئے سراسر نقصان دہ ثابت ہوں گی۔ اپنی پسند کے کسی بھی مذہب پر عمل یا اسکی تبلیغ کا حق ہمارے آئین میں درج ہے۔ یوپی کا تبدیلی مذہب مخالف قانون ان آزادیوں کو مجروح کرتا ہے اورعام لوگوں کو ہراساں کرنے کا آلہ کار بن گیا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ معزز عدالتیں آئینی اقدار کی پاسداری کریں گی اور اس طرح کے قانونوں پر روک لگا ئے۔









