نئی دہلی : (ایجنسی)
وزیر اعظم دفتر(پی ایم او) نے دہلی ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ پی ایم کیئر فنڈ سرکاری نہیں ہے اور اس کی رقم بھارت سرکار کے خزانہ میں نہیںجاتی ہے ۔ وزیر اعظم آفس میں انڈر سکریٹری پردیپ کمار سریواستو نے دائر کئے گئے حلف نامہ میں کہا ہے کہ پی ایم کیئر ٹرسٹ کے کام کاج میں مرکزی سرکار یا ریاستی سرکار کا کوئی کنٹرول نہیں ہے ۔
یہ حلف نامہ ایک درخواست کے جواب میں دائر کیا گیا تھا جس میں آئین کے آرٹیکل 12 کے تحت پی ایم کیئرز فنڈ کو ’سرکاری ‘ قرار دینے کاحکم دینے کی مانگ کی گئی تھی ، تاکہ اس کے کام کاج میں شفافیت کو یقینی بنایا جاسکے ۔
چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس امت بنسل پر مشتمل بنچ سمیک گنگوال کی ایک درخواست کی سماعت کر رہی تھی ، جس نے دعویٰ کیا تھا کہ پی ایم کیئرز فنڈ ’سرکاری‘ ہے، کیونکہ اسے وزیر اعظم نے گزشتہ سال کووڈبحران کے مدنظر 27 مارچ کو ہندوستانیوں کو تعاون کرنے کے لیے بنایا تھا ۔
سریواستو نے عدالت کو بتایا کہ ٹرسٹ شفافیت کے ساتھ کام کرتا ہے اور اس کے فنڈز کا آڈٹ ایک آڈیٹر کے ذریعہ کیا جاتا ہے ، جو سی اے جی کےذریعہ تیار پینل میں چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ ہے ۔ اپنے جواب میں سریواستو نے کہا کہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ، ٹرسٹ کو موصول ہونے والے فنڈز کے استعمال سے متعلق معلومات کے ساتھ آڈٹ رپورٹ ٹرسٹ کی آفیشل ویب سائٹ پر ڈال دی گئی ہے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ ٹرسٹ کو موصول ہونے والے تمام عطیات آن لائن ادائیگی ، چیک اور؍یا ڈیمانڈ ڈرافٹ کے ذریعے ہوتے ہیں۔ اس سے ملنے والی رقم کا آڈٹ کیا جاتا ہے اور ٹرسٹ فنڈ کے اخراجات ویب سائٹ پر دکھائے جاتے ہیں۔
پی ایم او نے 29 مئی کو پی ایم کیئر فنڈ کی جانکاری دینے سے منع کر دیا۔ پی ایم او نے کہاکہ فنڈ آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت ئپبلک اتھارٹی ‘ نہیں ہے ۔ پی ایم نریندر مودی اس فنڈ کے چیئرپرسن ہیں اور کابینہ کے کئی سینئر ارکان اس کے ٹرسٹی ہیں۔ پی ایم او نے کہا تھا ’ پی ایم کیئرز فنڈ آر ٹی آئی ایکٹ 2005 کے سیکشن 2(h)کے تحت پبلک اتھارٹی نہیں ہے ۔









