گوہاٹی : (ایجنسی)
جمعرات کو آسام کے درانگ ضلع کے دھول پور گوروکھوٹی میں پولیس اور مقامی لوگوں کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔ اس جھڑپ میں کم از کم دو مظاہرین کی موت ہوگئی۔ 9 پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ پولیس اور مقامی لوگوں کے درمیان یہ تصادم اس وقت ہوا جب سیکورٹی اہلکاروں کی ایک ٹیم علاقے میں غیر قانونی تجاوزات ہٹانے گئی تھی۔
آن لائن پورٹل آج تک کی خبر کے مطابق آسام حکومت نے ضلع درانگ کے دھول پور گوروکھوٹی گاؤں میں بڑے پیمانے پر مہم شروع کی تھی۔ اس سے 800 پریوار بے گھر ہو گئے تھے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ لوگ یہاں تجاوزات کر کے رہ رہے تھے۔ اس گاؤں میں زیادہ تر مشرقی بنگال کے مسلمان رہتے ہیں۔
ضلع ایس پی سشانت بسوا سرما نے بتایا کہ تشدد میں 9 پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک کی معلومات کے مطابق دو مظاہرین کو گولی لگی ہے جنہیں اسپتال لے جایا گیا ہے۔ حملے میں 9 پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔
معلومات کے مطابق پہلی بار جون میں اس گاؤں میں ایسی مہم چلائی گئی تھی جس کے بعد فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے یہاں کا دورہ کیا۔ کمیٹی نے بتایا تھا کہ اس مہم میں 49 مسلم پریواراور ایک ہندو پریوار کو یہاں سے ہٹا دیا گیا تھا۔ مقامی اخبارات کے مطابق گاؤں کی 120 بیگھہ اراضی کو خالی کرایا گیا تھا جو کہ قدیم شیو مندر سے منسلک تھی۔
حالانکہ پیر کو بڑے پیمانے پر مہم شروع کی گئی تھی۔ دھول پور گوروکھوٹی کے رہائشیوں نے دی وائر کو بتایا کہ بے دخل کیے گئے پریوارکی تعداد 900 سے زیادہ ہے اور 20,000 سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔









