کولکاتا : (ایجنسی)
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو روم میں منعقد ہونے والی امن کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ لیکن اب مرکزی حکومت نے ممتا کو اس امن کانفرنس میں شرکت کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے، جس کے لیے ممتا نے مرکزی حکومت اور پی ایم مودی کو نشانہ بنایا ہے۔
روم جانے کی اجازت نہ دینے پر ممتا بنرجی نے پی ایم مودی پر شدید حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ،’مجھے روم میں ہونے والی عالمی امن کانفرس میں مدعو کیا گیا تھا، جس میں جرمن چانسلر اور پوپ فرانسس بھی شرکت کرنے والے تھے۔ اٹلی نے میرے لیے خصوصی اجازت لے کر آنے کا انتظام کیا تھا ، لیکن مرکز نے اجازت دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وزیر اعلیٰ کے لیے یہ صحیح نہیں ہے ۔‘
ممتا بنرجی نے مزید کہا کہ آپ مجھے روکنے کے قابل نہیں ہیں۔ مجھے بیرون ملک جانے پر پابندی نہیں ہے ، لیکن یہ میرے ملک کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ آپ (پی ایم مودی) مسلسل ہندوؤں کے بارے میں بات کرتے رہتے ہیں۔ میں بھی ایک ہندو عورت ہوں ، آپ نے مجھے جانے کی اجازت کیوں نہیں دی؟ آپ پوری طرح حسد کر رہے ہیں۔
ممتا بنرجی کو اکتوبر میں ہونے والی جس امن کانفرنس میں مدعو کیا گیا تھا ، وہ رم کے ویٹیکن میں منعقد ہونا ہے ۔ ایسی بین الاقوامی کانفریس میں شرکت کے لیے مرکزی حکومت ( وزارت خارجہ) سے منظوری لینی ہوتی ہے ، لیکن مودی سرکار نے ممتا بنرجی کو منظوری دینے سے انکار کردیا ہے۔
معلومات کے مطابق اگلے ماہ 6 اور 7 اکتوبر کو ہونے والی اس امن کانفرنس میں ممتا بنرجی کے علاوہ پوپ فرانسس ، جرمن چانسلر انجیلا مرکل اور مصر کے سب سے بڑے امام احمد الطیب جیسی مشہور شخصیات کو بھی مدعو کیا گیا ہے ۔
لیکن اب ان سب کے درمیان ممتا بنرجی کو روم میں منعقد ہونے والی امن کانفرنس کی منظوری نہ دینے پر ایک بڑا تنازع کھڑا ہوسکتا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں اور ٹی ایم سی قائدین اس فیصلے کے حوالے سے مرکزی حکومت کو گھیر سکتے ہیں۔









