مین پوری (ایجنسی)
اترپردیش کے مین پوری ضلع کے داؤد پور گورنمنٹ پرائمری اسکول میں 80 میں سے 60 بچے درج فہرست ذات(ایس سی) کے ہیں، لیکن حال ہی میں جب ایک شکایت کی گئی تو حکام کو پتہ چلا کہ یہ بچے مڈ ڈے میل کے لیے جن برتن کااستعمال کرتے ہیں ،انہیں کیمپس میں الگ رکھا جاتا ہے اور انہیں بچے ہی دھوتے ہیں۔
شکایت کے بعد عہدیداروں نے جمعہ کے بیور بلاک کےاسکول کا دورہ کیا اور ہیڈ ماسٹر گریما راجپوت کومعطل کردیا ۔ اس کےعلاوہ دو باورچیوںکو بھی ہٹادیا گیاہے۔ کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ وہ درج فہرست ذات کے بچوں کے برتنوں کو نہیں چھو سکتے۔
مین پوری بیسک ایجوکیشن آفیسر (بی ایس اے) کمل سنگھ نے کہا کہ نو منتخب سرپنچ منجو دیوی کے شوہر کی طرف سے اسکول میں کی جانے والی ذات پات کے امتیازی سلوک کی شکایت کو سچ پایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہہمیں بدھ کے روز اس حوالے سے ایک شکایت موصول ہوئی اور ایک ٹیم معائنہ کے لیے اسکول بھیجی گئی۔
کمل سنگھ نے کہا کہ باورچیوں کے خلاف کارروائی اسکول مینجمنٹ کمیٹی کے ذریعہ کئی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ شیڈول ذات کے بچوں اور دوسرے بچوں کے ذریعہ استمال کئے جانے والے برتن الگ الگ رکھے جاتے تھے ۔بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر اور دیگر عہدیداروں نے اسکول کا دورہ کیا۔ دورے کے دوران باورچی سوموتی اور لکشمی دیوی نے درج فہرست ذات کے طلباء کے برتنوں کو چھونے سے انکار کردیااور کہاکہ اگر انہیں ایسا کرنے کے لیے مجبور کیا گیا تو وہ اسکول میں کام نہیں کریں گے۔ انہوں نے ذات پر مبنی گالیوں کا بھی استعمال کیا۔
سرپنچ منجو دیوی کے شوہر صاحب سنگھ نے بتایا کہ کچھ والدین 15 ستمبر کو ان کے پاس آئے تھے اور اسکول میں ہونے والے اس امتیازی سلوک کے بارے میں بتایا تھا۔ جس کے بعد اس نے مقامی صحافیوں اور حکام سے شکایت کی۔
صاحب سنگھ نے کہا کہ18 ستمبر کو میں ایک میٹنگ کے لیے اسکول گیا تھا۔ میں نے دیکھا کہ کچن گندا تھا اور اس میں صرف 10-15 پلیٹیں رکھی ہوئی تھیں۔ میں نے باورچیوں سے پوچھا کہ باقی تھالیاں کہاں ہیں ، انہوں نے بتایا کہ کچن میں جو تھالیاں ہیں وہ پسماندہ اور جنرل گیٹگری کے طلباء کی ہیں۔ جبکہ 50-60تھالیاں الگ رکھی گئی ہیں ۔ مجھے یہ بھی بتایا گیا تھا کہ درج فہرست ذات کے طلباء کو اپنے برتن خود دھونے اور رکھنے کے لیے مجبور کیا جا تاہے ، کیونکہ دیگر ذاتوں کا کوئی بھی انہیں چھونے کو تیار نہیں ہوتا ہے ۔
صاحب سنگھ نے بتایا کہ گاؤں کی تقریباً35 فیصد آبادی دلت ہے ، جبکہ ٹھاکروں کی تعداد یکساں ہے ، باقی پسماندہ طبقات سے ہیں۔









