نئی دہلی : (ایجنسی)
لکھیم پور کھیری میں 4 کسانوں سمیت 8 لوگوں کی موت کے معاملے میں متاثرہ اہل خانہ کو انصاف دینے کی مانگ کرنا شاید بی جے ہی ممبر پارلیمنٹ ورون گاندھی کو بھاری پڑ گیا ہے ۔ جمعرات کو اعلان کی گئی بی جے پی کی قومی ایگزیکٹیو میں نہ تو ورون گاندھی کو جگہ ملی ہے اور نہ ہی ان کی ماں اور سابق مرکزی وزیر مینکا گاندھی کو ۔ بی جے پی کے اس قدم کا اور کیا مطلب سمجھاجانا چاہئے ۔
ورون گاندھی اتر پردیش کی پیلی بھیت سیٹ سےجبکہ مینکا گاندھی سلطان پور سیٹ سے رکن پارلیمنٹ ہیں ۔
ورون گاندھی لکھیم پور واقعہ میں مارے گئے کسانوں کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو خط لکھ کر اس معاملے میں سخت سے سخت کارروائی کرنے کی مانگ کی تھی۔ ایسی ویڈیو جن میں یہ صاف نظر آرہا ہے کہ کسانوں کو کوزیر اجے مشرا ٹینی کے بیٹے کی گاڑی نے روند دیا ،ان ویڈیو کو بھی ورون گاندھی نے ٹویٹ کیا ہے۔ ورون نے کہا ہے کہ مظاہرین کو قتل کرکے چپ نہیں کرایا جاسکتا ہے اور متاثرہ اہل خانہ کو انصاف ملنا چاہئے ۔ بے قصور کسانوں کا خون بہانے کے واقعہ کے لیے جوابدہی طے کرنی ہوگی۔ ہر کسان کے دماغ میں اشتعال اور بے رحمی کا جذبہ گھر بنائے، اس کے پہلے انھیں انصاف دلانا ہوگا۔‘‘
ورون نے کچھ دن پہلے گوڈسے زندہ باد کے نعرے لگانے والوں کو بھی سرزنش کی تھی۔ انہوں نے کہا تھاکہ ایسے لوگ اس ملک کو شرمندہ کررہے ہیں ۔
اترپردیش میں اسمبلی انتخابات قریب ہیں اور ایسے وقت میں یوگی حکومت لکھیم پور کھیری کے واقعہ کے حوالے سے زبردست دباؤ میں ہے، لیکن پارٹی نے اپنے دو اراکین پارلیمنٹ کو اس انتخابی ریاست سے قومی ایگزیکٹو سے نکال کر کیا پیغام دیا ہے۔ کیا پیغام یہ ہے کہ جو بھی لیڈر پارٹی کو نقصان پہنچانے والا بیان دے گا ، اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔
لیکن بی جے پی نے بابائے قوم کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کا مہامنڈل کرنے والے ممبران پارلیمنٹ یا لیڈروں پر دکھاوے کے علاوہ کوئی سخت کارروائی کبھی نہیں کی۔ باقاعدہ انہیں پارٹی میںبڑے عہدے دئے گئے۔
لکھیم پور کھیری کا واقعہ بی جے پی کو بہت زیادہ بھاری پڑ سکتا ہے ۔ اس واقعہ کی وجہ سے مغربی اترپردیش کے بعد کسان تحریک یہاں سے باہر بھی مضبوط ہوتا نظر آرہا ہے کیونکہ کئی جگہوں پر کسان بڑی تعداد میں سڑکوں پر اترے ہیں ۔ کسانوں اور اپوزیشن پارٹیوں کے ذریعہ حملہ بولنے کی وجہ سے لکھیم پور کھیری کے علاوہ اس کے پڑوسی اضلاع ، پیلی بھیت ، شاہجہاں پور، ہردوائی، سیتا پور اور بہرائچ میں بھی بی جے پی کو سیاسی نقصان ہو سکتا ہے ۔ اسی طرح اتراکھنڈ کے ترائی علاقوں میں بھی اس واقعہ کے بعد کسانوںمیں بی جے پی کے خلاف زبردست غم وغصہ ہے ۔










