واشنگٹن: امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک اور بڑا قانونی دھچکا دیتے ہوئے ان کی اس کوشش کو مسترد کر دیا، جس کے تحت وہ عارضی ویزا رکھنے والوں اور غیرقانونی تارکینِ وطن کے امریکہ میں پیدا ہونے والے بچوں کی پیدائشی شہریت محدود کرنا چاہتے تھے۔ عدالت کے پانچ ججوں نے آئینی تحفظ کو برقرار رکھتے ہوئے ٹرمپ کے مؤقف سے اتفاق نہیں کیا۔
ٹرمپ کی کئی اہم پالیسیاں عدالت میں ناکام
یہ حالیہ مہینوں میں سپریم کورٹ کی جانب سے ٹرمپ کے خلاف آنے والا واحد فیصلہ نہیں ہے۔ اس سے قبل عدالت نے وفاقی قانون کے تحت وسیع تجارتی محصولات (ٹیرف) نافذ کرنے کی کوشش کو بھی مسترد کر دیا تھا۔ اسی طرح دسمبر میں عدالت نے شکاگو میں امیگریشن قوانین کے نفاذ کے لیے نیشنل گارڈ تعینات کرنے کی ٹرمپ انتظامیہ کی درخواست بھی رد کر دی تھی۔
ٹرمپ کا ردعمل، مگر مجموعی تصویر مختلف
پیدائشی شہریت سے متعلق فیصلے پر ٹرمپ نے اسے "ملک کے لیے افسوسناک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے پر قانون سازی کی حمایت کریں گے، تاہم امریکی کانگریس میں اس تجویز کی منظوری کے امکانات محدود سمجھے جا رہے ہیں۔
اگرچہ سپریم کورٹ نے ٹرمپ کی چند بڑی پالیسیوں پر روک لگائی ہے، لیکن مجموعی طور پر عدالت کی قدامت پسند اکثریت گزشتہ برسوں میں صدارتی اختیارات کو وسعت دینے اور مستقبل کے صدور کے لیے بھی اہم آئینی تحفظات فراہم کرنے والے متعدد فیصلے دے چکی ہے۔ تاہم بعض معاملات میں قدامت پسند ججوں نے بھی لبرل ججوں کے ساتھ مل کر ٹرمپ کے اختیارات پر واضح آئینی حدود مقرر کی ہیں۔









