ایودھیا: رام مندر میں عقیدت مندوں کے چندے اور قیمتی اشیاء میں مبینہ خردبرد کے معاملے کی تحقیقات مزید آگے بڑھ گئی ہیں۔ اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (SIT) اور اتر پردیش پولیس کی تفتیش میں کئی نئے حقائق سامنے آئے ہیں، جن کے بعد معاملہ قانونی کارروائی اور اثاثوں کی بازیابی کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
گرفتار ملزمان کا سیکیورٹی کمپنی سے تعلق
تحقیقات کے مطابق گرفتار کیے گئے آٹھ ملزمان میں سے چھ وارانسی کی ایک نجی سیکیورٹی کمپنی "سینک سیکیورٹی سروسز” کے پے رول پر تھے۔ یہ کمپنی اسٹیٹ بینک آف انڈیا (SBI) کی ایودھیا برانچ کے ذریعے رام مندر میں نقدی گننے کے عمل کے لیے خدمات انجام دے رہی تھی۔ کمپنی کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ ان کی فرم کا مندر ٹرسٹ سے براہِ راست کوئی معاہدہ نہیں تھا، بلکہ وہ بینک کے وینڈر کے طور پر کام کر رہی تھی۔
چمپت رائے سے پوچھ گچھ، مگر ایف آئی آر میں نام شامل نہیں
پولیس نے رام جنم بھومی تیرتھ ٹرسٹ کے سابق جنرل سیکریٹری چمپت رائے سے پوچھ گچھ ضرور کی ہے، تاہم انہیں اب تک اس مقدمے میں ملزم قرار نہیں دیا گیا اور نہ ہی ان کا نام ایف آئی آر میں شامل کیا گیا ہے۔ اس معاملے میں سب سے بڑا سوال یہی اٹھ رہا ہے کہ گرفتار افراد مبینہ طور پر کس کے اشارے پر چندے کی رقم اور قیمتی سونے چاندی کی اشیاء میں خردبرد کر رہے تھے، اور اس پورے نیٹ ورک کا اصل ذمہ دار کون ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش جاری ہے اور تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔









