دہرا دون : (ایجنسی)
اتراکھنڈ میں اجتماعی تبدیلی مذہب معاملے میں 10 سال تک قید اور 25 ہزار جرمانہ کی سزا کاالتزام کرنے کی تیاری کی جارہی ہے ۔ موجودہ قانون میں اجتماعی تبدیلی مذہب پر سزا اور جرمانہ کا التزام نہیں ہے ۔ اس تعلق سے مذہبی آزادی قانون میں ترمیم کے لیے پولیس ہیڈ کوارٹر نے انتظامیہ کو تجویز بھیجی ہے ۔ کئی اور دفعات میں تبدیلی کے لیے بھی تجویز تیار کی گئی ہے ۔ یہ سب اترپردیش کی طرز پر قانون کو سخت بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے ۔
حال ہی میں وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے پولیس ہیڈ کوارٹر میں افسران کے ساتھ میٹنگ کی تھی۔ اس میں انہوں نے اتراکھنڈ مذہبی آزادی ایکٹ- 2018 کو سخت بنانے کی بات کی تھی۔ اس کے لیے انہوں نے پولیس ہیڈ کوارٹر سے حکومت کو تجویز بھیجنے کا کہا تھا۔ واضح رہےکہ یہ قانون پڑوسی ریاست اتر پردیش کے قانون سے بہت ہلکا ہے۔ اس میں مذہب تبدیل کرانے والوں کے لیے محضتین سے پانچ سال قید کی سزا ہے۔ یہی نہیں، مقدمہ درج کرانے کے لیے سب سے پہلے عدالت میں عرضی دائر کرنی ہوگی۔ اس طرح اگر کوئی مقدمہ درج ہو بھی جاتا تو ملزم کی گرفتاری بھی قانون کے مطابق ممکن نہیں ہے۔










