پٹنہ : (ایجنسی)
ونائیک دامودر ساورکر کے بارے میں مختلف سیاسی پارٹیاں اپنی الگ الگ رائے رکھتی ہیں ۔ کوئی انہیں آزادی کی جدوجہد میں اہم کردار ادا کرنے پر ’ویر‘ ساورکر کہتے ہیں تو کوئی انگریزوں کو دئے ان کے معافی کے سہارے انہیں بزدل اورانگریزوں سے ملا ہوا ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ اس بار ساورکر پر آر جے ڈی اور بی جے پی میں وار چھڑ گئی ہے ۔
جمعرات کو بہار کی سب سے بڑی پارٹی آر جے ڈی نے ٹوئٹر پر لکھا :’’ غدار ساورکر کے سنگھی بزدل کارکنان جنہیں نہ تاریخ کاعلم ہے اور نہ حال کا۔ یہ مبینہ نام نہاد پیدائشی اعلیٰ لوگ ہمیشہ سے پیٹھ دکھا کر ملک سے غداری کرتے آئےہیں۔ نمک حرامی ان کے خون میں ہے۔‘‘ دراصل دہلی میں ہندو سینا کے لوگ ’اکبر روڈ‘ کا نام بدل کر ’ سمراٹ ہیمو وکرم دتیہ مارگ‘ کرنے پہنچے تھے ، اس دوران میڈیا کو انٹرویو دے رہے ہندو سینا کے قومی صدر وشنو گپتا پولیس کو دیکھتے ہی سرپٹ بھاگ کھڑے ہوئے ۔ اسی کے بہانے آر جے ڈی نے ساورکر پر حملہ بولا۔

اس کے جواب میں بی جے پی ترجمان نکھل آنند نے پلٹ وار کرتے ہوئے کہا ،’ جو پارٹی سیاسی طاقت کو بے پناہ دولت حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتی ہے ،جس پارٹی کا لیڈر بدعنوانی کے معاملے میں جیل کی سزا کاٹنے کو سوراج کہتا ہو ، اس سیاسی پارٹی اور اس کے لیڈروں سے ہندوستانی تاریخ پر معلومات نہیں چاہئے۔ آج کی ہندوستانی تاریخ جو انگریز پرست ،نہرو وادی، بائیں بازو کی تاریخ ہے جس نے جنگ آزادی کے دور کی تاریخ کے صفحات سے دلت، آدیواسیوں ،او بی سی ،کسان اور دیگر آزادی کے ہیروؤں کو مٹا دیا ہے، جنہوں نے خون- پسینہ ہی نہیں جان تک نچھاوڑ کر دیا۔‘‘
اتنا ہی نہیں، بی جے پی لیڈر نے تاریخ کو از سرنو لکھے جانے کی مانگ بھی کی ہے۔ نکھل آنند نے کہاکہ ملک کی آزادی کے مٹائے گئے صفحات میں ویر ساورکر جیسے عظیم لوگ بھی ہیں جن کی کہانی لوگوں کو معلوم نہیں ،ویر ساورکر کی کہانی آزادی کے دور کے سب سے درد ناک اور دل دہلادینے والی کہانیوں میں سے ایک ہے جس کو ہر راشٹر واد بھارتی کو جاننا چاہئے ۔ ہندوستانی تاریخ کو از سرنو لکھنے کی بہت سخت ضرورت ہے ۔










