بنگلور :(ایجنسی)
کرناٹک مسلم نوجوان کے قتل کیس میں پولیس نے انکشاف کرتے ہوئے کہاکہ لڑکی کے والدین نے ہی مرڈر کی سپاری دی تھی۔ اس معاملے میں اب تک 10 لوگوں کو گرفتار کیا جا چکاہے ۔ جس میں رائٹ ونگ کے ہندوتو گروپ سے جڑے لوگ بھی شامل ہیں۔
تقریباً 10 دن پہلے کرناٹک کے بلیگاؤں ضلع میں ایک ریلوے ٹریک پر 24 سالہ ایک نوجوان کی سر کٹی لاش برآمد ہوئی تھی۔ جس کے بعد جمعہ کو پولیس نے دعویٰ کیا کہ نوجوان کا قتل بین مذہبی تعلقات کو لے کیا گیاتھا۔ پولیس نے کہاکہ اس معاملے میں ایک دائیں بازو کے لیڈر سمیت کم سے کم 10 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے ۔
پولیس کے مطابق دائیں بازو گروہ شری رام سینا ہندوستان سے جڑے شخص مہاراج پنڈالیکا نے نوجوان کے قتل کے لیے لڑکی کے پریواروں سے پیسے لئے تھے۔ نوجوان کی سر کٹی لاش ریلوے ٹریک پر اس لئے پھینکی گلی تھی، کیونکہ ملزمین پولیس کو گمراہ کرنا چاہتے تھے ۔
مسلم نوجوان ارباز کی لاش 28 ستمبر کو ریلوے ٹریک پر ملی تھی جس کے بعد ریلوے پولیس نے غیر فطری موت کا مقدمہ درج کیا تھا۔ لاش کے پوسٹ مارٹم سے پتہ چلا کہ ارباز کو قتل کرنے کے بعد اس کی لاش کو ریلوے ٹریک پر رکھی گئی تھی۔ قتل کی کہانی سامنے آنے کے بعد معاملہ بیلگاوی پولیس کو منتقل کر دیا گیا۔ جس کے بعد کیس کی تحقیقات شروع کی گئی۔
پولیس حکام نے بتایا کہ لڑکی کے والد اور مہاراج نے ارباز کو واپس بلایا اور اسے قتل کر دیا۔ تفتیش کے بعد ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران ہمیں پتہ چلا کہ لڑکی کے والدین نے اس رشتے کی مخالفت کی تھی، جس کے بعد اس نے ارباز کو مارنے کے لیے مہاراج پنڈالیکا کو رقم دی۔ قتل کے بعد ملزم نے لاش کو ریلوے ٹریک پر پھینک دیا تاکہ ثبوت کو مٹایا جایاسکے۔










