نئی دہلی: (ایجنسی)
کوئلے کے بحران پر دہلی کے وزیر توانائی کا کہنا ہے کہ اگر سپلائی نہیں آتی ہے تو ملک کے دارالحکومت میں دو دن کے بعد پورے شہر میں بلیک آؤٹ ہوگا۔ ہفتہ کو وزیر توانائی ستیندر جین نے کہا کہ ملک بھر میں جتنےبھی پاؤر پلانٹس ہیں ، جو کوئلے سے چلتے ہیں، وہاں گزشتہ کچھ دنوں سے کوئلے کی بہت کمی ہے ۔ دہلی کو جن پاؤر پلانٹ سے سپلائی ہوتی ہے، ان تمام کو کم ازکم ایک مہینے کا کوئلہ اسٹاک رکھنا ہوتا ہے، لیکن اب وہ کم ہو کر ایک دن کا رہ گیا ہے ۔ مرکزی حکومت سے ہماری اپیل ہے کہ ریلوے محکمہ کاانتظام کیا جائے اور کوئلہ جلد سے جلد پلانٹس تک پہنچایا جائے۔ جتنے بھی پلانٹ ہیں ، وہ پہلے سے صرف 55 فیصد صلاحیت پر چل رہے ہیں۔ 3.4لاکھ میگا واٹ کی جگہ آج صرف ایک لاکھ میگا واٹ مانگ رہ گئی ہے ، اس کے باوجود پاور پلانٹ سپلائی نہیں کر پارہے ہیں ۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے جو ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ ہے، ان کی بھی صلاحیت 45 ہزار میگا واٹ سے گھٹ کر 30 ہزار میگا واٹ رہ گئی ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ پیک اوور میں وہاں 45 ہزار میگا واٹ کا پیدوار ہو۔ یہ حال تب ہے ، جب ہم نے پاؤر پر چیز ایگریمنٹ کئے ہوئے ہے۔ این ٹی پی سی سے ہی ساڑھے 3-4ہزار میگا واٹ کاہمارا یگریمنٹ ہے۔ اس کے باوجود ہم آج 20 روپے یونٹ بجلی خریدنے کو تیار ہے ۔ ہم نے کہا ہے کہ کتنی بھی مہنگی بجلی ملے خرید لیجئے گا۔
عام آدمی پارٹی سرکار کے وزیر نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ مین میڈ کرائسیس ہے، ایسی سیاست چلتی ہے کہ بحران پیدا کرو تو لگے گا کچھ بڑا کام کیا ہے ۔ جیسے آکسیجن کا بحران ہوا تھا، وہ بھی مین میڈ ہی تھا۔ پھر سے ویسا ہی بحران نظر آرہا ہے کہ کوئلے کی سپلائی بند کردو۔ اس ملک میں کوئلہ نکلتا ہے ، ملک میں پاؤر پلانٹ ہیں اور جتنی ڈیمانڈ ہے، اس سے ساڑھے تین گنا پروڈیکشن کی ہماری صلاحیت ہے ، اس لئے لگتا ہے کہ یہ مین میڈ کرائسیس ہے ۔
انہوں نے کہا کہ بوانا میں ہمارا 1300میگاواٹ کا پلانٹ ہے،جو گیس سے چلتا ہے، وہاں گیس کی سپلائی کل بند کردی گئی۔ مرکز سے ہم نے سپلائی کی مانگ کی، جس کے بعد سپلائی مل رہی ہے ۔ دہلی کی تینوں کمپنیاں خود پروڈیکشن نہیں کرتی ہے، دہلی میں کوئی بھی کوئلے کا پلانٹ نہیں ہے، تین چھوٹے چھوٹے پلانٹ ہیں، جہاں گیس سے پروڈیکشن ہوتا ہے ،ہم مرکز کےپلانٹ پر منحصر ہیں، اگر سپلائی نہیں آتی ہے تو دو دن بعد پوری دہلی میں بلیک آؤٹ ہوگا۔










