نئی دہلی :(ایجنسی)
ہفتہ کو آرمی چیف جنرل ایم ایم نروانے نے اس امکان کو خارج نہیں کیا کہ افغان نژاد غیر ملکی دہشت گرد جموں و کشمیر میں داخل ہونے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ انہوں نے دو دہائی قبل افغانستان میں طالبان حکومت کے دوران کے اس طرح کی مثالیں بھی دیں۔ آرمی چیف نے یہ بھی کہا کہ بھارتی فوج کسی بھی ایسی کارروائی کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
انڈیا ٹوڈے کانکلیو میں آرمی چیف سے پوچھا گیا کہ کیا جموں و کشمیر میں حالیہ ہلاکتوں اور افغانستان میں طالبان کے قبضے کے درمیان کوئی تعلق ہے؟ جنرل نروانے نے کہا کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس میں کوئی کنکشن ہے یا نہیں۔ آرمی چیف نے کہاکہ کہ یقینی طور پر سرگرمیاں (جموں وکشمیر) میں بڑھی ہیں ، لیکن کیا افغانستان میں جو ہو رہا ہے اس سےاس کا کوئی براہ راست تعلق ہے یا نہیں ،ہم نہیں کہ سکتے۔
آرمی چیف نے کہا کہلیکن ہم جو کہتے ہیں کہ اور تاریخ سے جان سکتے ہیں وہ یہ کہ طالبان کے سابقہ دور حکومت کے وقت جموں وکشمیر میں افغان نژاد غیرملکی دہشت گرد تھے۔ اس لئے یہ یقین کرنے کی وجوہات ہیں کہ افغانستان میں صورت حال معمول پر آنے کے بعد اسی طرح کی چیزیں ہوسکتی ہیں۔ تب ہم افغانستان سے ان جنگجوؤں کی آمد دیکھ سکتے ہیں ۔
آرمی چیف نے کہا کہ بھارتی فوج ایسی کوششوں سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم اس طرح کی کسی صورت حال کے لیے تیار ہیں۔ سرحد پر انسداد درانداز ی کاسسٹم بے حد مضبوط ہے ۔ اس طرح کی کسی بھی کارروائی سے نمٹنے کے لیے ہمارے پاس اندرون ملک انسداد دہشت گردی کا بہت مضبوط گرڈ ہے ۔ جس طرح ہم نے 2000 کی دہائی کی شروعات میں ان سے نمٹا تھا ،ہم ان سے اب بھی نمٹیں گے ،اگر وہ ہمارے آس پاس کہیں بھی آتے ہیں ۔










