لکھیم پور کھیری:(ایجنسی)
اترپردیش کے لکھیم پور کھیری معاملے میں اہم ملزم مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ امور اجے مشرا ٹینی کے بیٹے آشیش مشرا کو لمبی پوچھ گچھ کے بعد پولیس افسران نے ہفتہ کی دیر رات گرفتار کرکے تین دنوں کی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ آشیش مشرا پر تین اکتوبر کو اپنی تھار جیپ سے کسانوں کو کچلنے کا الزام ہے۔ ساتھ ہی گولی چلانے کا بھی الزام لگا ہے۔ اس کی تھار جیپ سے 315 بور کے مس کارتوس برآمد ہوئے تھے۔ پولیس لائنس کے کرائم برانچ میں لمبی پوچھ گچھ کے بعد وہ یہ ثابت نہیں کر پایا کہ وہ کارتوس کہاں سے آیا۔ وہ یہ بھی ثابت نہیں کر پایا کہ حادثہ کے وقت وہاں موجود نہیں تھا، جبکہ پولیس کے پاس بہت سارے ثبوت موجود تھے۔
دراصل ہفتہ کی صبح آشیش مشرا کرائم برانچ کے دفتر میں ایس آئی ٹی کے سامنے پیش ہوا۔ ذرائع کے مطابق، اس کے بعد ڈی آئی جی اوپیندر اگروال نے کہا کہ وہ اپنے بے گناہی کے ثبوت پیش کرسکتا ہے۔ اس کے بعد اپنے ساتھ لائے ویڈیو کے جال میں ہی پھنس گیا۔ اس نے کچھ ویڈیو پیش کئے، لیکن جب پولیس نے اس سے پوچھا کہ وہ 2.36 منٹ اور 3:40 منٹ تک کہا تھا۔ وہ یہ ویڈیو بھی پیش نہیں کرپایا کہ وہ دنگل میں اپنے والد کے ساتھ تھا۔ اس کے بعد وہ گول مول جواب دینے لگا۔ اس کے بعد وہ یہ بھی ثابت نہیں کرپایا کہ اس کی گاڑی میں کارتوس کہاں سے آیا۔ وہ اس کا جواب بھی نہیں دے پایا۔ اس کے بعد دیر رات اسے گرفتار کرلیا گیا۔
دوسری جانب ایس آئی ٹی نے آشیش مشرا کے ساتھ ہی انکت داس اور سمت جیسوال کو بھی ملزم بنایا ہے۔ اب دودنوں کی گرفتاری کے لئے لکھیم پور کھیری سے لے کر لکھنؤ تک چھاپہ ماری کر رہی ہے۔ جانکاری کے مطابق، جلد ہی دونوں کو گرفتار کیا جائے گا۔
اس درمیان آشیش مشرا کی گرفتاری کا سہرا پرینکا گاندھی واڈرا کو دیا اور مرکزی وزیر اجے مشرا کی بھی برخاستگی کا مطالبہ کردیا۔ کانگریس ترجمان انو اوستھی نے کہا کہ حکومت شروع سے ہی ملزم کو بچانے میں لگی ہوئی تھی، لیکن پرینکا گاندھی کے ستیہ گرہ کے آگے اسے جھکنا پڑا۔










