اندور : (ایجنسی)
مدھیہ پردیش کا اندور شہر ایک بار پھر فرقہ وارانہ وجوہات کی وجہ سے خبروں میں ہے۔ اندور کے کھڑیل تھانہ علاقہ کے کمپیل گاؤں میں دو فریقوں میں ہفتہ 9 اکتوبر کی رات جم کر مار پیٹ ہوئی۔ سات لوگوں کے ایک مسلم پریوار کو مبینہ طور پر 100-150 لوگوں کی بھیڑ نے ’جے شری رام ‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے پیٹا اور دھمکی دی۔ مسلم پریوار کے ارکان نے الزام لگایا کہ بھیڑ نے انہیں گھر خالی کرنے اور گاؤں چھوڑنے کے لیے الٹی میٹم دیا ہے ۔
ہجوم کے حملے میں مسلم پریوار کے 5 لوگوں زخمی ہوگئے ،جنہیں علاج کے لیے اندور کے مہاراج یشونت راؤ اسپتال میں داخل کرایا گیا ۔
حالانکہ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق پولیس کاکہنا ہے کہ پیسہ کو لے کر دونوں گروپوں میں تناز ع ہو گیا تھااور دونوں فریقوں کی جانب سے ایک دوسرے پر شکایت درج کی گئی ہے ۔ مسلم پریوار کی شکایت پر کھڑیل تھانہ پولیس نے 9 لوگوں کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 323,506,294,147اور 148 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے ۔
کمپیل گاؤں میں 4-5مسلم پریوار کئی سالوں سے رہتے آرہے ہیں، لیکن متاثرہ پریوار کا کہنا ہے کہ ایک مہینے پہلے گاؤں والوں نے ہٹلری فرمان سناتےہوئے تمام مسلم پریواروں کو گاؤں سے باہر نکالنے کا حکم دے دیاتھا۔
اس فرمان کے بعد 4 مسلم پریوار تو گاؤں چھوڑ کر چلے گئے لیکن ایک پریوار نہیں گیا۔ اسی کے سبب ہفتہ 9 اکتوبر کو 100-150کی بھیڑ نے رات 8:30بجے مبینہ طور پر گاؤں خالی کرنے کو لے کر تنازع کیا اور پریوار کے ساتھ جم کر مار پیٹ کی۔ متاثرہ پریوار کا الزام ہے کہ ہجوم نے چھوٹے بچوں اور عورتوں کو نشانہ بناتے ہوئے ’’جے شری رام ‘‘ کے نعرے بلند کرتے ہوئے گھر پر پتھراؤ بھی کیا۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق یہ پورا واقعہ تقریباً 25 منٹ تک جاری رہا۔ اس کے بعد متاثرین پریوار کھڑیل پولیس اسٹیشن پہنچا، جہاں سے انہیںمیڈیکل جانچ کے لیے اندور کے مہاراج یشونت راؤ اسپتال بھیجا گیا۔ بعد میں ان کی شکایت کی بنیاد پر ایک ایف آئی آر درج کی گئی ۔










