ممبئی : (خان افسر قاسمی)
لکھیم پور کھیری تشدد کی مخالفت میں آج مہاوکاس اگھاڑی نے مہاراشٹر بند کا اعلان کیا ہے، کانگریس، این سی پی اور شیوسیناکے لیڈران اور کارکنان بند کو کامیاب بنانے کے لیے سڑکوں پر اترے، لیکن صبح سے ہی یہ مہاراشٹر بند پرتشدد ہوگیا۔ ممبئی، پونے، ناگپور سمیت سبھی بڑے شہروں میں سڑکوں سے گاڑیاں غائب تھیںاور دکانیں مکمل طور پر بند رہیں، صرف ضروری خدمات والی دکانیں کھولی گئیں۔
ممبئی سے متصل تھانے کے ایک آٹو رکشہ ڈرائیور کی پٹائی کا ویڈیو موصول ہوا ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ آٹو ڈرائیور کی پٹائی ڈپٹی میئر کے شوہر پون کدم نے کی ہے۔ ڈائیور کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ بند کو نظر انداز کرتے ہوئے سڑکوں پر روزگار کےلیے نکل پڑا تھا۔ وہیں بیسٹ کی آٹھ بسوں میں توڑ پھوڑ کی بھی اطلاعات ہیں، اس کے بعد بیسٹ بسوں کے ڈرائیوروں نے تحفظ طلب کی تھی اور تھوڑی دیر بعد ہی بیسٹ بسوں کو ڈپو میں واپس بھیج دیاگیا۔اسی درمیان ممبئی لوکل ٹرین حسب سابق جاری ہے، لیکن مسافروں کی تعداد کم ہے۔
ادھر وکرولی میں ایسٹرن ایکسپریس وے پر شیوسینکوں نے ٹائر جلائے ، تو شولا پور میں بھی یوا سینکوں کے ذریعے ٹائر جلانے کی اطلاعات ہیں، کولہا پور میں مہامارگ پر ٹریفک جام کردیاگیا ہے، لوگوں کو آنے جانے سے روکا گیا، چندر پور میں بھی دکانیں بند ر ہیں۔
بند کو لے کر مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے حکومت پر نشانہ سادھتے ہوئے کہاکہ اس پورے معاملے پر ہائی کورٹ نوٹس لے۔ انہوں نے کہاکہ ریاستی حکومت اور مہانگر پالیکا کی ملی بھگت ہے، واضح رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ اور بامبے ہائی کورٹ نے بھی اس طرح کے بند پر پابندی عائد کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم درخواست کرتے ہیں کہ عدالت اس پر نوٹس لے۔










