نئی دہلی : (ایجنسی )
دہلی کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس(ڈی سی پی سی آر) نے لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل کو ایک خط لکھا ہے۔ خط میں انہوں نے درخواست کی ہے کہ اسکول-آنگن باڑی کھولنے پر غور کیا جائے۔ ڈی سی پی سی آر نے کہا کہ نرسی سے کلاس آٹھ تک کے طلبہ کو ہفتہ میں کم سے کم دو دن اور تمام بچوں کے لیے آنگن باڑی میں ہفتہ میں کم سے کم ایک بار کھولے۔
ڈی سی پی سی آر کی جانب سے جو خط لکھا گیا ہے ، اس میں یہ کہا گیا ہے کہ لگاتار اسکول بند ہونے سے بچوں پر برااثر پڑ رہا ہے ۔ شروعات میں ہفتہ میں کم سے کم دو دنوں کے لیے ہی اسکول کھولا جائے اور آنگن باڑی مراکز ہفتہ میں کم سے کم ایک دن کھلے۔
کیجریوال حکومت کی منفرد پہل کے تحت’’آنگن باڑی آپ کےدوار‘‘ بس لانچ ہوئی۔ اس طرح اب دہلی میں چلتی – پھرتی آنگن باڑی ان بچوں تک پہنچے گی ، جو کسی وجہ سے آنگن باڑیوں تک نہیں پہنچ پاتے ہیں۔ یہ چلتی پھرتی آنگن باڑی بچوں کو غذاتیت سے بھرپور خوراک دینے کے ساتھ ساتھ ان کی تعلیمی اور صحت کی ضروریات کو بھی پورا کرے گی۔ انٹرنیشنل گرل چائلڈ ڈے کے موقع پر پیر کو نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے ’آنگن باڑی آن وہیلز‘ پروگرام لانچ کیا ۔
اس موقع پر منیش سسودیا نے کہا کہ آنگن باڑی آن وہیلز دہلی حکومت کی ایک منفرد کوشش ہے جس کے ذریعہ یہ یقینی بنایا جائے گا کہ 0-6سال تک کے ہر بچے کی آنگن باڑی تک پہنچ ہو۔ ہر ایک بچے کو اچھی غذائیت اور اچھی تعلیم ملے ۔ انہوںنے کہاکہ کسی ایک بچے کی بہتری کے لیے کام کرنا ضروری ہے، لیکن ہر ایک بچے کی بہتری کے لیے کام کرنا بے حد ضروری ہے اور کیجریوال سرکار اس سمت میں کوشش کررہی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ آنگن باڑی آن وہیلز پروگرام کے تحت دہلی حکومت کا مقصد اس بچے تک پہنچنا ہے جو جو کسی وجہ سے آنگن باڑی تک نہیں پہنچ پاتے ہیں۔ ان بسوں کے ذریعہ سے تربیت یافتہ آنگن باڑی ورکس 0-6سال تک کے بچوں کوبچپن کی ابتدائی تعلیم فراہم کریں گی ۔ ساتھ ہی بچوں کو غذائیت سے بھرپور خوراک بھی دیا جائے گا ۔ پروگرام میں اطفال وخواتین فلاح وبہبود وزیر راجندر پال گوتم نے شیئر کیاکہ خواتین اور بچوں کی اصلاحات کے شعبے میں ترجیجی بنیادوں پر کام کررہی ہے ۔










