نئی دہلی : (ایجنسی)
آزادی کے بعد غالباً پہلی بار ایسا موقع آیا ہے جب آر ایس ایس اور بی جے پی نے کھل کر اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ہندوتوا کی شروعات کرنے والے وی ڈی ساورکر نے انگریزی حکومت سے معافی مانگی تھی۔ یہ بات کسی اور نے نہیں بلکہ بی جے پی کے سینئر لیڈر اور مرکز کی مودی حکومت میں نمبر دو تصور کیے جانے والے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہی ہے۔ انھوں نے چرایو پنڈت اور دیا ماہرکار کے ذریعہ لکھی گئی کتاب ’ویر ساورکر- دی مین ہو کڈ ہیو پریوینٹیڈ پارٹیشن‘ کی رسم اجرا کے موقع پر کہا کہ ساورکر عظیم ہیرو تھے، ہیں اور رہیں گے۔ انھیں نظریات کے چشمے سے دیکھنے والوں کو معاف نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
راج ناتھ نے اپنے بیان میں یہاں تک کہہ دیا کہ ’’ساورکر کے بارے میں ایک جھوٹ پھیلایا جاتا ہے کہ 1910 میں تاحیات جیل کی سزا کاٹ رہے ساورکر نے برطانوی حکومت کے سامنے رحم کی عرضی داخل کی تھی۔
اتنی عرضیوں کے بعد 50 سال کی سزا پائے ہوئے ساورکر کی قید کو گھٹا کر پہلے 13 سال کیا گیا، اور پھر انھیں آزاد کر دیا گیا۔ ساورکر نے 10 سال سے بھی کم وقت پورٹ بلیئر واقع سیلولر جیل میں گزارا۔ اتنا ہی نہیں، برطانوی حکومت نے ساورکر پر یوں تو سیاسی سرگرمیوں میں شامل نہ ہونے کی پابندی لگائی تھی، لیکن انھیں ہندو مہاسبھا کی سرگرمیاں جاری رکھنے کی چھوٹ ملی ہوئی تھی۔
راج ناتھ کے بیان پر معروف مورخ عرفان حبیب نے تلخ رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہاں، ایک خاص رنگ میں رنگے تاریخ کو لکھنے کا چلن صحیح میں بدل رہا ہے، جس کی قیادت وزیر دفاع کر رہے ہیں۔ کم از کم انھوں نے یہ تو قبول کر لیا کہ ساورکر نے رحم کی عرضی لکھی تھی۔ ایسے میں اب کوئی دستاویزی ثبوت کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ نئے ہندوستان کی نئی تاریخ…۔‘‘
سابق رکن پارلیمنٹ اور سینئر صحافی شاہد صدیقی نے بھی ساورکر سے متعلق راج ناتھ کے بیان کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ اب ساورکر کی رحم کی عرضی اور بزدلی کے لیے گاندھی جی کو قصوروار ٹھہرایا جائے گا۔
سی پی آئی-ایم ایل کی پولٹ بیورو ممبر کویتا کرشنن نے بھی کہا ہے کہ راج ناتھ سنگھ بتائیں کہ کب اور کیسے گاندھی جی نے ساورکر کو رحم کی عرضی لکھی ور صلاح دی تھی۔ کویتا نے کہا کہ اب تو آپ یہ بھی کہیں گے کہ گاندھی جی نے خود ہی گوڈسے سے کہا تھا کہ وہ انھیں گولی مار دے۔
کانگریس لیڈر شمع محمد نے بھی راج ناتھ سنگھ کے بیان پر رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ گاندھی جی نے تو خود جیل میں برسوں گزار دیئے ہیں اور انھوں نے کبھی بھی انگریزوں کے سامنے رحم کی عرضی داخل نہیں کی۔ شمع محمد نے کہا کہ ’’راج ناتھ سنگھ جی کو اس جھوٹ پر شرم آنی چاہیے۔ گاندھی جی تو انگریزوں کے سامنے جھکنے کی جگہ جیل میں ہی رہنا پسند کرتے تھے۔‘‘








