نئی دہلی:(ایجنسی)
دہلی فسادات کی سازش کے ملزم جے این یو کے سابق طالب علم عمر خالد نے منگل کو یہاں عدالت کو بتایا کہ تفتیشی افسر نے چارج شیٹ میں فرضی کہانیاں لکھیں۔ دلیل دی گئی کہ کیا چکہ جام کرنا انسداد دہشت گردی ایکٹ غیر قانونی سرگرمیاں ( روک تھام ) ایکٹ (یو اے پی اے ) کے نفاذ کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔؟ خالد سمیت کچھ دیگر لوگوں پر فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہوئےفساد کے سلسلے میں سخت یو اے پی اے کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔ اس پر فسادات کا ’اہم سازش کار‘ ہونے کاالزام ہے۔ ان فسادات میں 53 لوگوں کی موت ہوگئی تھی،جبکہ 700 سے زیادہ لوگ زخمی ہوگئے تھے ۔
ایڈیشنل سیشن جج امیتابھ راوت کے سامنے فسادات کی سازش کے معاملے میں عمر خالد کی ضمانت عرضی پر جرح کرتے ہوئے ان کے وکیل نے معاملے میں دائرچارج شیٹ کا حوالہ دیا۔ کہاکہ پولیس اس معاملے میں تمام ملزمین کو ’ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا‘ چاہتی ہے ۔ اس میں ’تڑکا‘ لگا رہی ہے ۔
دہلی پولیس نے پہلے کہا تھا کہ عمر خالد کی ضمانت کی درخواست میں کوئی دم نہیں ہے ۔ وہ معاملے میں دائر چارج شیٹ کا حوالہ دے کر عدالت کے سامنے اس کے خلاف پرائم فیس معاملہ پیش کرے گی ۔ منگل کو سماعت کے دوران عمر خالد کی جانب سے پیش سینئر وکیل تردیپ پائس نے حالانکہ عدالت سے کہاکہ میں معزز جج صاحب دکھاؤں گا کہ کیسے یواے پی اے نہیں بنتا ہے یا الزام ناممکن ہے ۔‘ انہوں نے چارج شیٹ میں ملزمین کے خلاف لگائے گئے تین الزامات کا ذکر کرتے ہوئے زور دے کر کہاکہ وہ پولیس کی تصوراتی کہانی تھی اور ان میں کوئی یکسانیت نہیں تھی ۔
قابل ذکر ہے کہ عمر خالد کو گزشتہ سال 13 ستمبر کو یو اے پی اے کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ یو اے پی اے کے ساتھ ہی اس معاملے میں ان کے خلاف فساد کرانے اور مجرمانہ سازش رچنے کے بھی الزام لگائے گئے ہیں۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ شہریت ترمیمی قانون ( سی اے اے ) اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی ) کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں شامل عمر خالد اور دیگر نے دہلی میں فسادات کی سازش رچی، تاکہ دنیا میں مودی سرکار کی شبیہ کو خراب کی جاسکے ۔
دہلی پولیس کے مطابق عمرخالد نے مبینہ طور پر دو مختلف مقامات پر اشتعال انگیز تقاریر کیں اور لوگوں سے اپیل کی کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ بھارت کے دوران سڑکوں پر نکلیں اور سڑکیں بلاک کریں تاکہ بین الاقوامی سطح پر لوگوں کومعلوم ہو کہ ملک میں اقلیتوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جا رہا ہے ۔
بتادیں کہ دہلی فسادات کو لے کر پولیس کی جانچ تنقید کی زد میں رہی ہے۔ فسادات کی سازش رچنے کے لیے رضاکاروں اور طلباء کی گرفتاری کو لے کر پولیس کی تنقید ہوتی رہی ہے ،جبکہ پولیس نے کپل مشرا جیسے بی جے پی لیڈر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ جس نے تشدد بھڑکانے سے کچھ گھنٹے پہلے ہی اشتعال انگیز تقریر کی تھی۔ عدالتوں نے بھی دہلی فسادات سے منسلک معاملوں کی جانچ کی تنقید کی ہے ۔










