دیوبند(سمیر چودھری)
مقامی انتظامیہ نے دیوبند علاقے کے گاؤں کیندوکی میں جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے جمعیۃ یوتھ کلب سینٹر کی تعمیر پر ڈی ایم سہارنپور کے حکم پر روک لگا دی ہے اور اس سینٹر کے حوالے سے ضروری دستاویزات پیش کرنے کو کہا ہے۔وہیں جمعیۃ کے عہدیداروں نے کہا کہ تمام ضروری دستاویزات انتظامیہ کے سامنے پیش کیے جائیں جائیں گے۔
واضح رہے کہ یکم اکتوبر کو جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا محمود مدنی اور دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی سمیت کئی بڑے علماء کے ہاتھوں اس سینٹر کی بنیاد رکھی گئی تھی۔لیکن اس سلسلہ میں گاؤں کے کچھ لوگوں نے انتظامیہ کے اعلیٰ افسران سے ملاقات کرکے اس سینٹر کے قیام پر اعتراض ظاہر کیا اور تعمیراتی کام بند کرانے کی مانگ کرتے ہوئے اس سینٹر میں غیر قانونی کام کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیاتھا، جس کے بعد انتظامیہ کی جانب سے اس سینٹر میں جاری تعمیراتی کام کو بند کراکر اس کے متعلق دستاویزات طلب کئے ہیں۔
ایس ڈی ایم راکیش کمار نے بتایا کہ ڈی ایم کے حکم کے بعد دو دن پہلے انہوں نے کیندوکی گاؤں میں مذکورہ جگہ کا معائنہ کیا تھا۔ اس وقت موقع پر دو کمروں کی تعمیر کی گئی ہے۔ جمعیت کے عہدیداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ سینٹر اور وہاں دی جانے والی تربیت کے حوالے سے ضروری دستاویزات فراہم کریں۔ادھر جمعیۃ علماء ہند کے ضلع جنرل سیکرٹری سید ذہین احمد نے بتایا کہ مذکورہ سینٹر بھارت اسکاؤٹ گائیڈ کے ساتھ معاہدے کے بعد تعمیر کیا جا رہا ہے۔ تمام ضروری دستاویزات انتظامیہ کو پیش کی جائیں گی۔انہوں نے بتایاکہ سینٹر کے اندر اسکاؤٹ گائیڈ کی تربیت دی جائے گی اور اس سینٹر کے اندر اسکاؤٹ گائیڈ کے ضوابط کے مطابق ایسے نوجوان تیار کئے جائیں گے جو نازک وقت میں ملک و سماج کی خدمت کے لئے ہمیشہ آگے رہیں،انہوں نے کہاکہ اعتراض کرنے والوں کا کیا مقصد ہے اس سے ہمارا کوئی لینا دینانہیں ہے ،انتظامیہ کو متعلقہ کاغذات پیش کئے جائیں گے۔
واضح رہے کہ جمعیۃ علماء ہند نے کیندوکی گاؤں میں مذکورہ زمین جمعیۃ یوتھ کلب کے سینٹر کے قیام کے لیے خریدی ہے اور مذکورہ سینٹر بھارت اسکاؤٹ گائیڈ کے ساتھ معاہدے کے بعد ہی تعمیر کیا جا رہا ہے۔لیکن اس سینٹر کی مخالفت کی کیاوجہ ہے اس کو لے کر کئی سوال کھڑے ہورہے ہیں، دیکھنا یہ ہو گا کہ یہ گاؤں والوں کے پسِ پشت ایک سیاسی مخالفت ہے یا حقیقت میں اس سینٹر کے قیام سے ان لوگوں کو کسی پریشانی کا سامنا ہے۔









