اردو
हिन्दी
مئی 2, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

قرآن کریم اور اس کی 26 آیات

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مذہبیات, مضامین
A A
0
قرآن کریم اور اس کی 26 آیات
436
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

مولانا ارشد مدنی

گزشتہ چند دنوں سے ملک میں قرآن شریف کی 26 آیتوں کے متعلق یہ آواز زیادہ زور پکڑ رہی ہے کہ قرآن مسلمانوں کو مشرکین (مورتی پوجکوں) کے قتل کرنے اور مار ڈالنے کا حکم دیتا ہے اس لئے قرآن کی جن جن آیتوں میں مورتی پوجکوں کو قتل کرنے کا حکم آیا ہے ان کو قرآن سے نکالا جائے، کیونکہ ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کسی بھی غیر مسلم اور مورتی پوجک کو دنیا میں جینے کا حق نہیں دیتا اور اس کے ساتھ اچھے رہن سہن کو ناجائز سمجھتا ہے، حالانکہ قرآن شریف میں سورت نمبر۰60آیت نمبر ۸ – ۹ میں اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں :

”اے مسلمانو! اللہ تم کو منع نہیں کرتا ان لوگوںسے جو لڑتے نہیں تم سے دین پر اور انھوں نے نکالا نہیں تم کو تمہارے گھروں سے کہ کرو ان سے بھلائی اور انصاف کا سلوک بے شک اللہ انصاف والوں کو پسند کرتا ہے ۔ اللہ تو منع کرتا ہے تم کو ان لوگوں سے جو تم سے دین پر لڑے ہیں اورانھوں نے دین پر تم کو تمہارے گھروں سے نکالا اور” شریک ہوئے تمہارے نکالنے میں“ کہ ان سے دوستی کرو اور جو کوئی ان سے دوستی کرے تو وہی لوگ گناہگار ہیں“۔

یہ قرآن کا ایک عام حکم ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ قرآن غیر مسلموں کے ساتھ اچھے سلوک اور اچھے رہن سہن سے ہر حال میں منع نہیں کرتا، بلکہ وہ مشرکین کے ایک خاص گروہ سے جو مسلمانوں کو مذہب کی بنیاد پر جینے کا حق نہیں دیتا تھا قتل وقتال کرتا تھا، مسلمانوں کو اپنے گھروں سے نکالتا تھا اور ان کی جائدادوں پر قبضہ کر لیتا تھا، ان کے ساتھ دوستی کرنے اور دوستی رکھنے سے منع کرتا ہے۔

اسی طرح سورت نمبر 4آیت نمبر90 میں اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں :

”سوائے (ان مورتی پوجکوں کے) جو ایسے لوگوں سے جاملتے ہیں جن میں اور تم میں مصالحت ہے، یا خود تمہارے پاس اس حالت میں آئیں کہ ان کے دل تمہارے ساتھ اور اپنی قوم کے ساتھ بھی لڑنے سے تنگ (منقبض) ہوں (یہ اللہ کا انعام ہے نہیں تو) اگر اللہ چاہتا تو ان کو تم پر مسلط (دلیر) کر دیتا اور وہ تم سے لڑنے لگتے، پھر اگر وہ مشرک لوگ تم سے ایک طرف ہو جائیں یعنی تم سے نہ لڑیں اور تم سے کنارہ کش رہیں تو اللہ نے تم کو ان پر کوئی راستہ نہیں دیا“۔

اس آیت سے بھی پتہ چلتا ہے کہ قرآن میں جہاں کہیں بھی مشرکین کے ساتھ قتل وقتال کا حکم دیا جارہا ہے وہ عام مورتی پوجکوں اور مشرکوں کے ساتھ نہیں بلکہ ان ہی مشرکین کے ساتھ ہے جو کسی حال میں بھی سرزمین عرب میں کسی جگہ بھی مسلمانوں کو جینے اور رہنے کا حق نہیں دیتے تھے۔

جس کی مختصر سی تفصیل یہ ہے کہ اللہ نے حضرت محمد ﷺ کو جزیرة العرب مکہ میں پیدا فرمایا یہاں کے رہنے والے بتوں کی پوجا کرتے تھے اور اسی کو دین سمجھتے تھے حضرت محمد ﷺ چالیس سال کی عمر تک ان ہی لوگوں میں نہایت شرافت اور پاکدامنی کے ساتھ رہتے رہے جب نبی کریم ﷺکو 40 سال کی عمر میں نبوت ورسالت کی ذمہ داری ملی اور آپ نے اللہ کے حکم سے ایک اللہ کی عبادت کی تبلیغ شروع کردی تو مکہ کے رہنے والے چونکہ بت پرستی کرتے تھے اس لئے مکہ والوں نے اللہ کے رسول اور ان کے متبعین کو بڑی بڑی تکلیفیں دینا شروع کردیں پھر بھی اس کے بعد 13سال تک اللہ کے حکم پر آپ مکہ میں ہی مقیم رہے اور اپنی قوم کے ظلم وتشدد کو خود آپ ﷺ اور آپ کے گنے چنے شیدائی رات اور دن سہتے رہے، اس کے علاوہ ان لوگوں کا کوئی قصور نہیں تھا کہ یہ لوگ اس ماحول میں جہاں مکہ والوں نے 360 بت کعبة اللہ میں اور اس کے ارد گرد رکھ رکھے تھے، وہاں یہ لوگ صرف ایک اللہ کی عبادت کرتے تھے، چنانچہ مکہ کے مورتی پوجکوں کے ظلم وتشدد سے تنگ آکر 80 کے قریب مسلمان اللہ کے نبی ﷺکی اجازت سے گھر بار اور آل اولاد چھوڑ کر سکون کے ساتھ ایک اللہ کی عبادت کرنے کے لئے حبشہ چلے گئے۔

مکہ معظمہ میں 13سال تک آپ کے ہاتھ میں کوئی طاقت نہیں تھی اگر طاقت ہو سکتی تھی تو اپنے خاندان اور قبیلہ کی طاقت ہو سکتی تھی مگر وہ سب کے سب مذہب کی بنیاد پر آپ کے اور آپ کے ساتھیوں کے شدید مخالف تھے اور ایسی ایسی تکلیفیں دیتے تھے جن کو سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، جب ایک دن اپنے اور پرائے مکہ کے بڑے بڑے سردار اپنے ہاتھوں سے آپ کو قتل کرنے کے لئے تیار ہو کر جمع ہوگئے تو اللہ کے حکم پر اور اللہ کی حفاظت میں آپ ان ہی لوگوں کے درمیان سے نکلے اور مدینہ منورہ آگئے، اس سفر میں آپ کے ساتھی اور خدمت گزار صرف حضرت ابو بکر صدیقؓ تھے۔

یہاں آکر اب اللہ کے نبی ﷺ نے پہلی اسلامی حکومت قائم کی جس کا کیپٹل مدینہ منورہ کو بنایا اور تمام وہ چیز یں جن کی کسی حکومت کو ضرورت ہوتی ہے وہ سب مہیا کیں یہاں آپ کی وفادار اور آپ کے اشارہ پر مرنے اور مٹنے والی فوج بھی ہے آج کی اصطلاح میں بیت المال (اسٹیٹ بینک) بھی ہے قید خانہ بھی ہے غرض وہ تمام چیزیںہیں جن کی ضرورت تھی۔

اور اللہ کے رسول ﷺ اور مکہ سے آنے والے (دیش تیاگ کرنے والے) آپ کے ساتھیوں نے بھی مدینہ ہی کو اپنا وطن بنا لیا۔

مکہ کے رہنے والے لوگ اس کو کب گوارا کر سکتے تھے کہ جن لوگوں کو بے سروسامانی اور بے بسی کی حالت میں اپنے گھر مکہ سے نکالدیا وہ کھلم کھلا ایک اللہ کی عبادت کرنے لگیں اور حکومت قائم کر کے بیٹھ جائیں اور ان کا سکہ عرب میں چلنے لگے؛ چنانچہ دشمنی کی آگ اور طاقت کے نشے میں اپنے پہلوان لڑاکو اور سرداروں کو لے کر ہتھیاروں سے سج دھج کر بدر کے میدان میں ان بے سہارا لوگوں کو تہس نہس کرنے کے لئے اور پہلی اسلامی حکومت کو بے نام ونشان کرنے کے لئے جمع ہو گئے، لیکن حکومت اور طاقت تو اللہ کی ہے اس نے ان بے سہارا تھوڑے سے لوگوں کے ہاتھوں سے ان کی ایسی درگت بنائی جس کا مکہ کے قریش تصور بھی نہیں کر سکتے تھے اس ذلت ورسوائی اور ہزیمت نے ایک طرف تو مسلمانوں کے حوصلہ کو بڑھایا دوسری طرف قریش کے دل میں دشمنی کی ایسی آگ لگا دی جس کی صحیح تصویر کھینچنا بھی مشکل ہے، دشمنی کی اسی آگ کے نتیجہ میں شکست کے بعد پے در پے ”احد“ اور ”احزاب“ کی لڑائیوں میں قریش مکہ نے مدینہ پر چڑھائی کی ہے اللہ کے رسول اور مسلمانوں نے مکہ پر نہیں۔

اس مختصر سی تمہید کے بعد یہ حقیقت سامنے آجانی چاہئے کہ قرآن میں جہاں بھی مورتی پوجک اور مشرکین کے ساتھ قتال اور لڑائی کا حکم آرہا ہے وہ سب مورتی پوجک اور مشرکین کے ساتھ نہیں بلکہ ان ہی لوگوں کے بارے میں آرہا ہے جن کے سینے مسلمانوں کی دشمنی کی آگ سے تندور بنے ہوئے ہیں، نہیں تو کسی غیر مسلم کے ساتھ حسن معاشرت اور اچھے رہن سہن کا حکم ہمیشہ سے ہر مسلمان کے لئے وہی ہے جس کو اس مضمون کی ابتدا میں سورت نمبر 60 کی آیت نمبر8  میں بتایا گیا ہے جو لوگ تمام غیر مسلموں کو ہمیشہ جہاں تہاں قتل کر ڈالنا اسلام کی تعلیم سمجھتے ہیں انھوں نے اسلام کو کچھ بھی نہیں سمجھا اسلام اللہ کا بھیجا ہوا ایک آسمانی مذہب ہے اور کوئی آسمانی مذہب اللہ کے بندوں کے قتل کا حکم ظالمانہ طور پر نہیں دیتا ہاں اللہ کے بھیجے ہوئے مذہب کا چراغ گل کرنے کے لئے یا اسلامی حکومت کی جڑ کھودنے کے لئے کوئی حکومت یا طبقہ کھڑا ہو جاتا ہے تو اسلام کی ان کے ساتھ کوئی صلح نہیں ہے۔

اس مختصر سی تمہید کو سامنے رکھنے اور سوچنے پر یہ حقیقت سامنے آجائے گی کہ ایسی دشمنی رکھنے والے اور حکومت کی جڑ اکھاڑنے والے لوگوں کو آج بھی دنیا میں کوئی دودھ نہیں پلاتا بلکہ ان کے ساتھ وہی کیا جاتا ہے جو اسلام نے کیا اور قرآن کی آیاتِ قتال میں اس کو بیان فرمایا اور سورہ نمبر 60کی آیت نمبر 9 میں اسی مضمون کو واضح طور پر ظاہر بھی فرما دیا۔

اس مذکورہ حقیقت سے ناواقف لوگ ان آیتوں کو مذہب کی بنیاد پر تمام مشرکین کی مخالفت اور قتل کے معنٰی میں لیتے ہیں جبکہ یہ غلط ہے سورہ نمبر 60 آیت نمبر 8 یہ بتا رہی ہے کہ وہ غیر مسلم جو تمہارے دشمن نہیں ہیں تم ان کے ساتھ اچھے سلوک اور اچھے ویوہار کے پابند ہو۔

ایک اور آیت: جس کو ان 26 آیتوں میں پیش کیا جاتاہے وہ سورة نمبر9 کی آیت نمبر28 ہے جس میں اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں :

” اے ایمان والو شرک کرنے والے ناپاک ہی ہیں تو وہ لوگ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب نہ آئیں“۔

یہاں بھی یہ سمجھاجاتا ہے کہ اس سے مراد تمام شرک کرنے والے اور اللہ کے ساتھ بتوں کی عبادت کرنے والے ہیں، لیکن خود آیت میں ”شرک کرنے والے ناپاک ہیں“کے ساتھ ”وہ لوگ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب نہ آئیں“ یہ بتا رہا ہے کہ یہ وہ ہیں جن کا کوئی گناہ کا کام کعبة اللہ کی عظمت کے خلاف ہو رہا تھا اس لئے ان کو بیت اللہ اور مسجد حرام کے قریب بھی آنے سے منع کیا گیا ہے، اور شرک کے ساتھ ساتھ یہ ناپاک کام ان خاص مشرکین کے ناپاک اور نجس ہوجانے کا سبب ہے چنانچہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے بعد پہلے حج کے موقع پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو جن باتوں کا اعلان کرنے کے لئے بھیجا تھا ان میں یہ بھی ایک خاص کام تھا کہ اس سال کے بعد کوئی سر سے پیر تک ننگا دھڑنگا کعبة اللہ کا طواف نہیں کرے گا کیونکہ قرب وجوار کے غیر مسلم لوگ کعبة اللہ کا طواف مادر زاد برہنہ اور ننگے کیا کرتے تھے، یعنی اس برہنگی اور ننگے پن کو انھوں نے اپنے دین کا حصہ بنا رکھا تھا جس طرح ہماری زبان میں اگر عقل کے خلاف کوئی کام کیا جاتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ ”اس شخص کی عقل پر پتھر پڑگئے“ یا ”عقل پر کتے موت گئے ہیں“ قریب قریب اسی طرح یہاں فرمایا جارہا ہے کہ جن لوگوں نے اللہ کی عظمت وجلال والے گھر کے طواف جیسے مقدس عمل اور عبادت کو مادر زاد برہنگی کی گندی شکل میں عبادت کا روپ دے رکھا ہے ان کا یہ کام ہی نہیں گندا ہے بلکہ وہ تو کل کے کل گندے ہیں۔

جو لوگ مذہب کی بنیاد پر اسلام میں غیر مسلموں کے قتل کو جائز سمجھ رہے ہیں انھوں نے صرف قرآن کی کچھ آیتوں کے ترجمے کو پڑھ لیا اور اس کی تفسیر کو نہیں پڑھا اسی لئے ان کو ٹھوکر لگی ہے اگر وہ سورة نمبر 60کی آیت نمبر8 اور آیت نمبر9 کے معنٰی پر غور کر لیتے اور ان دونوں آیتوں کو سامنے رکھتے ہوئے قتل وقتال کی آیتوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے تو بات صاف ہو جاتی؛ کیونکہ یہ قتل وقتال کی آیتیں اگر تمام مشرکوں کے لئے ہوتیں تو سورہ نمبر 60 کی آیت نمبر 8 میں اور سورة نمبر 4 آیت نمبر 90 میں عام مورتی پوجکوں کے ساتھ اچھے ویوہار اور قتل وقتال نہ کرنے کی بات قرآن میں کیسے کہی جاسکتی تھی؟۔

قرآن اللہ کی کتاب ہے اس کا ایک ایک حرف صحیح ہے دنیا کا ہر مسلمان 1400 چودہ سو سال سے اسی عقیدہ کے ساتھ پڑھتا پڑھاتا ہے مرتا اور جیتا ہے اس کو غلط کہنا سراسر غلط ہے ہاں اپنے اشکال کو دور کرنے کے لئے تفسیر پر ضرور غور کرنا چاہئے۔

(مضمون صدر جمعیة علما ہند مولانا سید ارشد مدنی کی کتاب ”قرآن کریم اور اس کی 26آیتیں“ سے ماخوذ)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN