انقرہ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترک صدر رجب طیب اردغان کے ساتھ انقرہ میں ہونے والی ملاقات کے بعد اعلان کیا ہے کہ امریکہ ترکی پر سنہ 2020 سے عائد CAATSA پابندیاں ختم کرنے جا رہا ہے۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر ہوئی، جسے امریکہ اور ترکی کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی سمت دینا چاہتا ہے اور اسی مقصد کے تحت ترکی پر عائد پابندیوں کے خاتمے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
دفاعی تعاون بڑھانے کا عندیہ
ٹرمپ نے ترک صدر کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ اردغان کی سربراہی میں ترکی دفاعی اعتبار سے پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہوا ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ دونوں ممالک مستقبل میں دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے پر بھی بات چیت کر رہے ہیں۔
امریکی صدر نے نیٹو کے حوالے سے اپنی ناراضی کا بھی اظہار کیا، تاہم کہا کہ ترکی میں ہونے والا اجلاس اتحادی ممالک کے درمیان رابطوں کو بہتر بنانے کے لیے اہم موقع ثابت ہوگا۔
ایف-35 پروگرام پر مثبت پیش رفت کی امید
ترک صدر رجب طیب اردغان نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے ساتھ ملاقات انتہائی مثبت رہی اور انہیں امید ہے کہ F-35 جنگی طیاروں کے پروگرام سے متعلق بھی جلد کوئی مثبت پیش رفت سامنے آئے گی۔
اردغان نے کہا کہ امریکہ نے ماضی میں جو یقین دہانیاں کرائی تھیں، وہ اب عملی شکل اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی بحالی دونوں کے مفاد میں ہے۔
غزہ، روس-یوکرین اور ایران پر بھی گفتگو
ترک صدر نے بتایا کہ ملاقات کے دوران غزہ کی صورتحال، روس-یوکرین جنگ اور ایران سے متعلق علاقائی امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان کے مطابق ترکی خطے میں امن اور سفارتی حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ نیٹو اجلاس غزہ میں جنگ بندی اور خطے میں استحکام کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔
CAATSA پابندیاں کیوں لگائی گئی تھیں؟
امریکہ نے دسمبر 2020 میں CAATSA (Countering America’s Adversaries Through Sanctions Act) کے تحت ترکی پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ اس کی وجہ ترکی کی جانب سے روس سے S-400 فضائی دفاعی نظام کی خریداری تھی، جسے واشنگٹن نے نیٹو کے دفاعی نظام اور امریکی F-35 طیاروں کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔








