نئی دہلی : (ایجنسی)
تریپورہ میں جمعرات کو اگرتلہ اور دیگر جگہوں سے مسلمانوں کے گھروں ،مسجدوں اور دکانوں پر حملوں اور توڑ پھوڑ کی خبر ہے ۔ مقامی مسلمانوں میں خوف کاماحول ہے ۔ یہ واقعات اس وقت پیش آئے جب وی ایچ پی نے بنگلہ دیش میں مندروں پرحملوں کے خلاف اگرتلہ کی سڑکوں پر جلوس نکالا۔ اس نے بنگلہ دیش ہائی کمیشن کے دفتر کو میمورینڈم بھی دیا۔ یہاں پہنچی خبروں کے مطابق شرپسندوں نے کئی مساجد میں توڑ پھوڑ کی اور اذان نہ دینے کا فرمان جاری کیا ،جو مساجد زد میں آئیں ہیں ان میں اگرتلہ مسجد ،مہارانی ادے پور مسجد ( اس کو جلادیا گیا) کرشنا نگر مسجد ، دھرم نگر رتن باڑی اور کیل شہر مسجد شامل ہیں۔ رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ غنڈوں نے کیلاش نگر مسجد پر اپناجھنڈا لہرایا۔ مسلم مخالف نعرے لگائے۔ مسلم پھیری والے پر حملے کی بھی اطلاع ہے ۔ مہارانی ادے پور میں کئی دکانوں کو نشانہ بنایا ۔
نیوز پورٹل India Tomorrow کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سب سے پریشان کن بات یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ کے حلقہ انتخاب میں چندر پور کی مسجد پر بھی حملہ کیا گیا۔ ایس آئی او کے محمد سلمان نے ٹویٹ کرکے بتایاکہ ’’ تریپورہ میں دائیں بازو کے غنڈے اقلیتوں پر حملے کررہے ہیں کیونکہ بنگلہ دیش میں اقلیتی ہندو کمیونٹی پر حملے ہورہے ہیں ۔ حیرت یہ ہے کہ یہ واقعات دفعہ 144 کے نفاذ کے باوجود ہوئےہیں۔ اسی دوران تریپورہ شاہی پریوار کے ایک رکن پر دیوت مانکیہ نے ان واقعات کی سخت مذمت کی ۔ انہوں نے ٹویٹ کیاکہ دو غلط ایک صحیح نہیں ہوسکتے۔









