گروگرام:( عامر حسین میواتی)
گروگرام ضلع انتظامیہ کے ساتھ نماز جمعہ کی ادائیگی کے معاملے میں آج ضلع ڈپٹی کمشنر کی موجودگی میں ہندوتوادی تنظیموں اور مسلم برادری کے ساتھ ایک میٹنگ ہوئی۔ جس میں دونوں برادریوں کے پانچ پانچ افراد کو بلانے کے بعد میٹنگ منعقد ہوئی۔ گروگرام ناگرک ایکتا منچ کے سربراہ الطاف احمد نے بتایا کہ کئی گھنٹے تک جاری رہنے والی آج کی میٹنگ بغیر کسی نتیجہ کے ختم ہوگئی۔ضلع انتظامیہ کے ساتھ منعقدہ میٹنگ میں شامل لوگوں نے بتایا کہ ہندو تنظیموں کے لوگ 2018 میں منتخب 105 مقامات میں سے زیادہ تر 37 مقامات پر نماز نہ پڑھنے پر اصرار کرتے رہے۔ بلکہ انتظامیہ کے سامنے تمام 37 مقامات پر نماز نہ پڑھنے کی کھل کر بات کرتے رہے۔
جبکہ مسلمانوں کے پانچ رکنی وفد نے واضح طور پر صاف کر دیا کہ وہ 37 مقامات میں سے کسی ایک جگہ سے بھی پیچھے ہٹنے اور دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہیں ۔
قابل ذکر ہے کہ کل شام ایک رپورٹ کے مطابق 37 میں سے 8 منتخب مقامات پر نماز نہ پڑھنے کی اجازت کو انتظامیہ نے منسوخ کر دیا تھا، جس کی وجہ سے گروگرام مسلم کمیونٹی میں تشویش پھیل گئی۔
گروگرام ناگرک ایکتا منچ کے صدر الطاف احمد نے بتایا کہ جب انتظامیہ نے 2018 میں ہندو اور مسلم کمیونٹی کے لوگوں کے ساتھ ضلع انتظامیہ نے بات چیت کرکے 37 مقامات پر نماز ادا کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اور اس طرح انتظامیہ نے نماز پڑھنے کے لیے 37 مقامات کو نشان زد کیا تھا۔
جمعیۃ علماء میوات گروگرام کے ناظم اعلیٰ مولانا صابر قاسمی عمران قریشی نے کہا کہ آج کا اجلاس کئی پہلوؤں سے مسلمانوں کے لیے لمحہ فکریہ بن گیا ہے۔ جہاں ایک طرف انتظامیہ گروگرام میں نفرت انگیز عناصر کے سامنے گھٹنے ٹیکتی ہوئی نظر آئی اور وہیں ہندو شدت پسند اور نماز کو بہانہ بنا کر مسلمانوں کے تئیں نفرت پھیلانے والوں کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے37 مقامات سے آہستہ آہستہ کم کرکے مکمل طور پر نماز جمعہ کی ادائیگی کو بند کرنے کی بات کہی۔
دوسری جانب مبنی بر حقیقت بات کرنے والے ہندو شدت پسند تنظیمیں کے غنڈہ گردی دیکھتے ہوئے الطاف احمد کو میڈیا کے سامنے بات کرنے سے جبرن روکا گیا اور کھلے عام میڈیا کو کو مزید کوریج اور مسلم نمائندوں کی آواز دبائی گئی۔ اور مسلم راشٹریہ منچ کے خورشید راجاکا کو آگے لا کر اپنے منہ کی بات کہواکر اپنی مرضی کا بیان دلانے کی ناکام کوشش کی ۔ چند روز قبل حاجی شہزاد کے حوالے سے الزامات عائد کرنے والوں کو نرم پہلو اپنا کر اپنے چنگل میں پھنساتے نظر آئے ۔
گروگرام ناگرک ایکتا منچ کے سربراہ الطاف احمد اور جمعیۃ علماء ہند میوات گروگرام کے جنرل سکریٹری مولانا صابر قاسمی نے میڈیا کے سامنے مسلمان کے مدعے پر بیان دیتے ہوئے شہزاد کے ذریعے دیے گئے پہلے بیان کی تردید کی۔ ایسی صورتحال کے سامنے آنے کے بعد گروگرام کے مسلمانوں اور خاص کر مولانا صابر قاسمی نائی ننگلہ، الطاف احمد ،مفتی سلیم بنارسی اور محبوب چندینی نے مل کر ایک بیان جاری کیا۔
آج 4 نومبر کو عید گاہ مسجد میں جمع ہوکر گیارہ بجے مسلم کمیونٹی اپنی آواز کو سرکارتک پہنچانے اور میٹنگ میں معاملے پر غور کرکے اگلا لائحہ عمل طے کیا جائے گا اور اس معاملے میں مسلمانوں کی اگلی حکمت عملی کیا ہوگی اس بات کو واضح کیا جائے گا۔ اس موقع پر فاروق خانپور ، نواب الدین نائی ننگلہ، محبوب چندینی سمیت درجنوں پارکوں میں نماز پڑھانے والے ائمہ موجود رہے ۔









