اجمیر : (نامہ نگار)
یونانی پیتھی کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کو اردو زبان کی لازمیت ہر حال میں برقرار رکھی جائے کیونکہ اسی میں یونانی پیتھی کی بقا ہے۔ آل انڈیا یونانی طبی کانگریس کے صدر پروفیسر مشتاق احمد نے مرکزی حکومت سے یہ مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ اس طرح کی کوششیں کی جارہی ہیں کہ اردو زبان کی لازمیت کو کسی طرح سے ختم کر دیا جائے اور اگر ایسا خدا نخواستہ ہوا تو پھر یونانی طب کو کتنا نقصان ہوگا اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے ۔ یہ معاملہ تنظیم کی حالیہ ورکنگ کمیٹی میں بھی اٹھایا جواجمیر میں ہوئی۔
’روز نامہ خبریں ‘ کو انہوں نے بتایا کہ ایم سی آئی ایس ایم کے تحت یونانی پیتھی کے طلبا کے لیے اردو زبان کی لازمیت کیوں ضروری ہے جیسا کہ سی سی آئی ایم کے تحت پہلے سی تھی۔ پروفیسر مشتاق کا کہنا ہے کہ جس زبان میں پیتھی کی کلاسیکل کتابیں ہیں اس کاذریعہ تعلیم بھی وہی ہو نا چاہئے اور یہ بات سب جانتے ہیں کہ یونانی طبی پیتھی میں کلاسیکل کتابوں کا عظیم ذخیرہ اردو میں ہی ہے ۔ بھارت میں مدتوں سے اس پیتھی کی تعلیم اردو میں ہی دی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 8 اکتوبر 2021 کو مرکزی حکومت کے ہیلتھ سکریٹری نے یونانی فیڈریشن کی میٹنگ بلائی تھی، یہ قابل ستائش قدم ہے۔ میٹنگ میں یونانی طبی پیتھی کے ساتھ ہونے والے سوتیلے سلوک پر بھی ان سے بات ہوئی اورتمام شواہدان کے سامنے رکھے گئے۔
یاد رہے اجمیر میں تنظیم کی ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں ڈاکٹر صباحت اللہ امروہوی ، ڈاکٹر ڈی آر سنگھ ، ڈاکٹر سنجے سنگھ ڈھنگڑ اور ڈاکٹر مجیب الرحمن ، ڈاکٹر محمد روشن وغیرہ نے بھی اپنے خیالات کااظہار کیا ،جبکہ تنظیم کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر سید احمد خان نے سب کاشکریہ ادا کیا۔









