ممبئی : (ایجنسی)
مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے نواب ملک کے اہل خانہ پر انڈر ورلڈ سے زمین خریدنے کا الزام لگایا ہے ۔ فڈنویس نے پریس کانفرنس کر کے کہاکہ نواب ملک اپنے ممبئی کے گنہگاروں ،ممبئی میں بم بلاسٹ کرنے والوں سے زمین کیوں خریدی؟ ایسی کون سی بات تھی کہ جس کی وجہ سے ممبئی کے گنہگاروں نے ایل بی ایس روڈ پر تین ایکڑ زمین آپ کو 20 لاکھ روپے میں دے دی؟
دیویندر فڈنویس نے مزید کہا کہ چار جائیدادوں میں 100 فیصد انڈر ورلڈ اینگل ہے، میرے پاس جو سارے ثبوت ہیں میں وہ مجاز اتھارٹی کو دوں گا، میں یہ تمام ثبوت نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے صدر شرد پوار کو بھی دوں گا تاکہ ان کو بھی پتہ چلے کہ ان کے وزراء نے کیا گل کھلائے ہیں۔
دیویندر فڈنویس نے نواب ملک پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ میں بہت سنگین موضوع پر انکشاف کرنے جا رہا ہوں ۔ پہلا کردار ہے سردار شاہ ولی خان یہ 1993 بم دھماکہ کا گنہگار ہے ۔ یہ جیل میں ہے ،الزام ہے کہ ٹائیگر میمن کی قیادت میں فائر ٹریننگ میں شامل تھے۔ بی ایم سی ہیڈکوارٹرس کی ریکی کی تھی۔ گاڑیوں میں آر ڈی ایکس بھرنے والے شخص تھے۔ گواہوں کی تصدیق کے بعد انہیں جیل ہوئی ہے ۔ دوسرا کردا ر ہے محمد سلیم اسحاق پٹیل عرف سلیم پٹیل ، سابق وزیر داخلہ اورآر آر پٹیل کے ساتھ فوٹو وائرل ہوئی تھی ، ان کی داؤد کے ساتھ فوٹو ملی تھی ۔
اس نے مزید بتایا کہ وہ حسینہ پاریکر کا ڈرائیور اور فرنٹ مین تھا۔ داؤد کی گرفتاری کے بعد حسینہ پاریکر کے نام پر لینڈ گرابنگ کی پراپرٹی جمع ہوتی تھی۔ اس کی پاور آف اٹارنی سلیم پٹیل کے نام پر ہوتی تھی۔ اب معاملہ کرلا کے ایل بی ایس روڈ پر 3 ایکڑ کی زمین کا ہے۔ جسے گوا والا کمپاؤنڈ کہا جاتا ہے ۔ یہ زمین مریم گوا والا کے نام پر تھی۔ لیکن پاور آف اٹارنی سلیم پٹیل کے پاس تھی۔ آگے اس زمین کی سودا بازی سالیڈس نام کی کمپنی کے ساتھ ہوئی ہے۔ اس کی رجسٹری پر پاور آف اٹارنی ہولڈر ہے ’ سلیم پٹیل‘ دوسرے پارٹی کی برکی کرنے والی ہے ’ شاہ ولی خان‘ برکی ہوئی ہے سالیڈس کمپنی کے ساتھ۔
یہ کمپنی نواب ملک کے خاندان والوں کی ہے۔ فراز ملک نے یہ زمین خریدی ہے۔ فراز نواب ملک کے بیٹے ہیں۔ اس زمین کا سودا 2003 میں شروع ہوا۔ اس وقت نواب ملک وزیر تھے۔ 2005 تک یہ سودا پورا جب تک نواب ملک نے وزیر کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
دیویندر فڈنویس نے کہا کہ آج بھی اس زمین پر ایک شیڈ ہے۔اس ایک مہینہ کا کرایہ ایک کروڑ روپے سالیڈس کمپنی کو یہ پیسہ ملتا ہے ۔ اس وقت وہاں زمین کا ریٹ کیا تھا؟ 2 ہزار فی اسکوائر فٹ کے حساب سے ریٹ تھا،لیکن زمین کا سوداہوا ہے صرف 30 لاکھ روپے میں۔ جس میں صرف 20 لاکھ روپے دئے ہے۔ 15 لاکھ پاور آف اٹارنی ہولڈر سلیم پٹیل کے اکاؤنٹ پر جمع ہوا ہے۔ سردار شاہ ولی خان کو 5 لاکھ روپے ملے ۔
رجسٹری میں فیصلہ کیا اور فیک ٹینٹ دکھا یا گیا ۔ 8500 کا ریڈی رکنیر ریٹ، 2 ہزار فی اسکوائر فٹ کا مارکیٹ ریٹ ،اصل میں صرف 25 روپے فی اسکوائر میٹر سے سودا ہوا ۔ 15 روپے سے خریدی گئی۔
ممبئی کے گنہگاروں سے نواب ملک نے زمین کیوں خریدی؟ کیا ملک کو معلوم نہیں تھا؟ اس گنہگار پر ڈاٹا لگایاتھا۔ جس میں گنہگار کی جائیداد سرکار ضبط کرتی ہے ۔ ممبئی بم دھماکے میں ہم نے لوگوں کے چیتھڑے اڑتے دیکھے،ایسے مجروں سے ان کے کاروباری تعلق کیسے ہیں؟









