لکھنؤ : (ایجنسی)
بی ایس پی سپریمو مایاوتی نے کہا کہ ہم 2022 کے یوپی اسمبلی انتخابات کے لیے کسی بھی پارٹی کے ساتھ انتخابی معاہدہ نہیں کریں گے اور اکیلے ہی لڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم عوام کے ساتھ اتحاد کر کے ریاست میں حکومت بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات قریب آتے دیکھ کر بی جے پی جلد بازی میں سنگ بنیاد رکھ رہی ہے اور سرکاری اسکیموں کو وقف کر رہی ہے۔ یہ منصوبے ابھی آدھی ادھوری ہی ہیں۔ عوام ان کے جھانسے میں نہیں آئیں گے۔
انہوں نےکانگریس وایس پی پر بھی نشانہ سادھتے ہوئے کہاکہ کانگریس بھی بی جے پی کی راہ پر ہے اس لئے مسلسل عوام کو لبھانے والے اعلانات کررہی ہے۔ اگر انہوں نے اقتدار میں رہتے ہوئے50 فیصد بھی اپنے وعدے پورے کئےہوتےتو آج مرکزکی اقتدار سے باہر نہ ہوتے۔ مایاوتی نے کہا کہ عوام ایس پی کے انتخابی وعدوں پر یقین نہیں کریں گے اورانہیں ووٹ نہیں دیں گے۔
مایاوتی نے یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو بھی نشانہ بنایا اور کہا کہ یوپی کے وزیر اعلیٰ کی طرح میرا بھی کوئی خاندان نہیں ہے لیکن میں کوئی لباس پہن کر سنیاسی نہیں بن گئی ہوں۔ میرا پریوار تمام مذاہب کے لوگ ہیں اور میں سب کا خیال رکھتی ہوں۔ یوگی نے ایک دھرم کے ایک خاص ذات کے لوگوںپر ہی اپنا توجہ مرکوز کیا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ اگر میرے بھائی – بہن و رشتہ دار سیاست میں خدمت کے لیے بے لوث آئیں تو اسے کنبہ پروری کہہ کر انگلی نہیں اٹھائی جانی چاہئے۔
مایاوتی نے کہا کہ اسمبلی انتخابات میں ایس پی اور بی جے پی نے بالکل واضح کر دیا ہے کہ دونوں صرف ہندو مسلم مسئلہ پر الیکشن کرانے پر آمادہ ہیں۔ دراصل دونوں ہی ایک دوسرے کی غذائیت ہیں۔ بی ایس پی سروسماج کی پارٹی ہے اوراپنے اسی ایجنڈے پر کام کرے گی۔ انہوں نے ایس پی کے 400 اوربی جے پی کے 300 سے زیادہ سیٹوںپر جیت کے دعوے پر طنز کیا اور کہا کہ اس بچکانہ دعوے پر تو الیکشن کمیشن کو یوپی میں سیٹوں کی تعداد 1000 کرنی ہوگی۔ دونوں کے ارادے صاف ہیں کبھی جناح، کبھی پولیس فائرنگ جیسے فرقہ وارانہ تشدد اور مذہبی مسائل کو اٹھانےکی کوشش براہ راست ہندو اور مسلمانوں پر فوکس کرنا ہے اور دونوں ایک دوسرے کو فائدہ پہنچانا چاہتےہیں۔









