نئی دہلی:(ایجنسی)
دہلی ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ قانون پولیس کی حراست میں پوچھ گچھ کے دوران لوگوں کو پیٹنے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے جانکاری میں دہلی پولیس کے اہلکاروں کے ذریعہ حراست میں دو لوگوں کو پیٹے جانے کے معاملے کی جانچ کے حکم دیتے ہوئے پیر کو کہا کہ کسی کے لیے بھی جارج فلائیڈ جونیئر کے آخری الفاظ ’میں سانس نہیںلے پا رہا‘ کو دوہرانے کا موقع نہیں آیا۔
سیاہ فام امریکی شہری جارج فلائیڈ کی 25 مئی 2020 کو گرفتاری کے دوران منیا پولیس کے ایک افسر نے قتل کردیا تھا۔ اس واقعہ کو لے کر دنیا بھر کے لوگوںمیں غم وغصہ تھا۔ اس واقعہ کے ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا تھا کہ ایک پولیس افسر فلائیڈ کی گردن پر گھٹنے رکھ کر اسے دبا رہا تھا۔ جارج فلائیڈ کی موت اس وقت ہوئی جب سفید فام پولیس افسر ڈیرک چوون نے تقریباً نو منٹ تک اس کی گردن پر گھٹنے سے دبائے رکھا۔
منیاپولس کے پولیس افسر 45 سالہ چوون نے فلائیڈ کی گردن پر اپنے گھٹنے سے نو منٹ سے زیادہ وقت تک دبا ؤ بنا کر انہیں زمین پر گرائے رکھا تھا، جبکہ وہ بار بار کہہ رہا تھا کہ انہیں سانس لینے میں تکلیف ہو رہی ہے ( I can’t breathe)
جسٹس نظمی وزیری نے چاندنی محل تھانے میں تعینات پولیس افسروں کے خلاف جانچ سے متعلق عرضی کی سماعت کرتے ہوئے جارج فلائیڈ کے قتل کا ذکر کیا۔ محمد اریب عمر اور عمیر صدیقی نے ایڈووکیٹ ایم سفیان صدیقی کے ذریعہ دائر درخواستوں میں کہا کہ 25 جنوری کو دہلی پولیس کے اہلکاروں نے بے رحمی سے ان کی پٹائی کی اورپولیس کی زیادتی کی ان کی شکایت پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
جسٹس وزیری نے پیر کو جاری حکم میں پولیس کی اس دلیل کو خارج کرد یا کہ ماضی میں ہوئے کسی واقعہ کی وجہ سے انہیں عمر اور صدیقی کے خلاف سخت کارروائی کرنی پڑی۔
27 اکتوبر کو ہوئی سماعت میں پولیس نے کہا کہ انہوں نے پولیس تھانہ کے باہرذاتی وجوہات سے فریقوں کے درمیان ہاتھا پائی کو روکنے کے لیے کارروائی کی تھی۔ عدالت نے کہاکہ انسپکٹر کے ذریعہ شروعاتی جانچ کی گئی اور معاملے کو اس طرح بند کر دیا گیا جیسا کہ کچھ ہوا ہی نہیں۔ عرضی گزار نے عدالت کو بتایا کہ انہیں جانچ کے دوران نہ تو بلایا گیا اورنہ ہی ان کی سماعت ہوئی۔ جسٹس وزیر نے حکم میں کہاکہ جانچ میں اعتماد کی بحالی کرنے کے لیے کارروائی کے دوران جانبدارانہ کی گئی۔ مبینہ جانچ رپورٹ میں اصل اصولوں پر عمل نہیں کیا گیا ۔









