نئی دہلی:(ایجنسی)
مرکزنے منگل کو سپریم کورٹ کو بتایا کہ غیر ملکی چندہ حاصل کرنے کا حق بنیادی حق نہیں ہے اور اگر اسے منظم نہیں کیا گیا تو اس کے ’تباہ کن نتائج‘ ہو سکتے ہیں۔
’فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ایکٹ (ایف سی آر اے)- 2010’‘ میں کی گئی ترامیم کا دفاع کرتے ہوئے حکومت نے جسٹس اے ایم کھانولکر کی قیادت والی بنچ کو بتایا کہ تبدیلی کا مقصد تعمیل طریقہ کار میں شفافیت لانا اور جوابدہی بڑھانا ہے ۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بنچ کو بتایا، ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ غیر ملکی امداد حاصل کرنے کا حق بنیادی حق نہیں ہے اور اسے باقاعدہ بنایا جانا چاہیے۔‘‘
مہتا نے بنچ کو بتایا کہ انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق، ایسی مثالیں ہیں کہ غیر ملکی امداد سے حاصل ہونے والے کچھ فنڈز کا نکسلائیٹس کی تربیت کے لیے غلط استعمال کیا گیا ہے۔ بنچ نے اس معاملے میں کئی عرضیوں پر اپنی سماعت مکمل کر لی ہے۔
سالیسٹر جنرل نے کہا کہ ہندوستان بحیثیت قوم ہمیشہ سے غیر ملکی عطیات کے بارے میں بہت باخبر رہا ہے اور اس کی پالیسی ہے کہ اس طرح کی فنڈنگ کے غلط استعمال سے بچا جائے۔ مہتا نے کہا کہ ہر غیر ملکی تعاون صرف ایف سی آر اے اکاؤنٹ کے طور پر نامزد اکاؤنٹ میں وصول کیا جائے گا، جو نئی دہلی میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کی مرکزی شاخ میں کھولا جائے گا۔ انہوں نے اس معاملے میں سپریم کورٹ میں مرکز کی طرف سے داخل کردہ حلف نامہ کا بھی حوالہ دیا، جس میں کہا گیا ہے کہ طریقہ کار کی بنیاد پر، ایس بی آئی کی مرکزی شاخ، نئی دہلی میں 19,000 سے زیادہ اکاؤنٹس پہلے ہی کھولے جا چکے ہیں۔
سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ رکھتے ہوئے کہا کہ مرکز اور عرضی گزاروں کی طرف سے ایک ہفتہ کے اندر تحریری عرضیاں داخل کی جائیں۔ قبل ازیںعدالت میں داخل کیے گئے اپنے حلف نامہ میں مرکز نے کہا تھا کہ بغیر کسی ضابطے کے ’بے لگام غیر ملکی عطیات‘وصول کرنا بنیادی حق نہیں ہے۔









