نئی دہلی : (ایجنسی)
_ کانگریس کے سینئر لیڈر و سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید نے ہندوتوا کو دہشت گرد تنظیم داعش اور بوکو حرام سے جوڑ دیا۔ سلمان خورشید نے اپنی کتاب ’سن رائز اوور ایودھیا: نیشن ہڈ ان آور ٹائمز‘ میں لکھا ہے کہ آج کے مضبوط ہندوتوا کی سیاسی شکل سنتوں کے سناتن اور قدیم ہندو مت کو ایک طرف رکھ رہی ہے، جو کہ ہر طرح سے جہادی تنظیمیں جیسے آئی ایس آئی ایس اور بوکو حرام ہے۔ تاہم کانگریس لیڈر سلمان خورشید نے اپنی نئی کتاب میں ایودھیا تنازع پر سپریم کورٹ کے فیصلے کی تعریف کی۔
کانگریس کے سینئر لیڈر سلمان خورشید نے ایودھیا فیصلے پر سپریم کورٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہندوتوا سے متاثر کانگریسی لیڈروں کو سپریم کورٹ کے فیصلے نے آئینہ دکھایا ہے۔ سلمان خورشید نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا جائزہ لیتے ہوئے کچھ سوالات اٹھائے ہیں، لیکن اس فیصلے کے مثبت پہلو کو دیکھنے کی وکالت کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اب ملک آگے بڑھے گا۔
سلمان خورشید کی کتاب میں ہندوتوا کا موازنہ داعش اور بوکو حرام سے کئے جانے پر بی جے پی اور زعفرانی تنظیموں نے شدید مخالفت کی ۔جس سے ایک سیاسی ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔
بی جے پی آئی ٹی سیل کے صدر امت مالویہ نے اس کتاب کے ایک باب کی فوٹو ٹوئٹر پر شیئر کرتے ہوئے کانگریس اور خورشید پر الزامات کی بارش کردی۔ بتایا گیا ہے کہ اس معاملے میں خورشید کے خلاف دہلی پولیس میں شکایت بھی کی گئی ہے۔
بی جے پی آئی ٹی سیل کے سربراہ نے جو فوٹو شیئر کی ہے، اس میں باب کا نام ’دی سیفران اسکائی‘ ہے۔ اس کے پیچ نمبر 113 پر مبینہ طور پر خورشید کی جانب سے لکھا گیا: ’سادھو- سنت جس سناتن دھرم اور اور کلاسیکی ہندوتوا کو نظر انداز کر کےہندوتو ا کے ایسے ورژن کو آگے بڑھایا جا رہا ہے جو سیاسی طور پر ہر پیمانے میں آ ئی ایس آئی ایس اور بوکوحرام جیسے جہادی اسلامی تنظیموں کی سیاسی شکل جیسا ہے ۔
امت مالویہ نے اپنے ٹویٹ میں لکھا، ’آخر ہم ایسے شخص سے اور کیا امید کر سکتے ہیں جس کی پارٹی نے بھگوا دہشت گردی کی اصطلاح کو اسلامی جہاد سے تشبیہ دینے اور مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے تیار کیا۔
سلمان خورشید کی کتاب سن رائز اوور ایودھیا میں کیے گئے اس تبصرہ کے خلاف دہلی پولیس میں شکایت درج کرائی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ایک وکیل نے اس سلسلے میں دہلی پولیس کمشنر کو خط لکھ کر خورشید کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔









