کاس گنج :(ایجنسی)
تلسی داس کی جائےپیدائشی ،کلیان سنگھ کی کرم بھومی کاس گنج ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔ اس بار وجہ ہے ، پولیس حراست میں الطاف نامی نوجوان کی موت۔ اس معاملہ نے پورے پردیش کا سیاسی پارہ گرم کردیاہے۔ سب سے حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ پولیس کی کہانی نے اس معاملے کو منفرد بنا دیا ہے ۔
پولیس کا کہنا ہے کہ الطاف نے جیکٹ کی ٹوپی میں لگی ڈوری سے پھندہ بنایا اور باتھ روم کےنل سے باندھ کر پھانسی لگا لی۔ لیکن لوگوں کو پولیس کی یہ کہانی سمجھ میں نہیں آرہی ہے کہ 5 فٹ 6 انچ کا آدمی ڈھائی فٹ اونچے نل سے کیسے لٹک سکتا ہے۔ کیا نل اس کاوزن سنبھال لے گا؟ کیا جیکٹ کی ڈوری الطاف کا وزن برداشت کرلے گی؟ سیاسی طفان بڑاہونے سے پہلے ہی پانچ پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے، لیکن پولیس والے سوالوں کی زد میں ہے ۔
الطاف 22 سال کا نوجوان تھا، وہ اپنے والد چاند میاں اورماں شبنم کی آنکھوں کا تارا تھا۔ اس کی آنکھوںمیں خواب تھے، لیکن گھر کےمعاشی حالات کو دیکھتے ہوئےوہ ٹائلس لگانے کا کام کرنےلگا۔ ان دنں وہ ایک گھر میں ٹائلس لگا رہا تھا۔ اسی دوران اس گھر کی ایک نابالغ لڑکی لاپتہ ہوگئی۔ لڑکی کے اہل خانہ نے شک ظاہر کیا کہ الطاف لڑکی کو بھگا لے گیا ہے ۔
معاملہ پولیس تک پہنچا۔ پیر کی رات 8 بجے کے قریب پولیس نے نگلہ سید کے علاقے میں الطاف کے گھر پر چھاپہ مارا اور اسے گھر سے پوچھ گچھ کے نام پر اٹھا لیا۔ پولیس نے اس کے گھر والوں کو بتایا کہ وہ الطاف کو پوچھ گچھ کے بعد چھوڑ دیں گے۔ باپ چاند میاں نے بیٹے کو اس امید کے ساتھ پولیس کے حوالے کیا کہ بیٹا غلط نہیں تھا، وہ واپس آجائے گا۔ لیکن اگلے دن بیٹے کی موت کی خبر آئی۔پولیس نے اہل خانہ کو بتایا کہ الطاف نے خودکشی کرلی ہے۔
باپ کے کندھے پر بیٹے کا جنازہ زمانے کا سب سے بڑا دکھ کہا جا تا ہے ۔ اور دیہ دکھ چاند میاں پر ٹوٹ پڑا۔ پولیس کہتی ہے کہ الطاف نےباتھ روم جانے کے لیے کہا۔ اسے راستہ بتادیا گیا۔ بہت دیر تک جب وہ واپس نہیں آیا توپولیس اہلکاروں نے جاکردیکھا۔ الطاف نے جیکٹ کی ٹوپی میں لگی ڈوری کا پھندہ بنا کر نل کے پائپ سےپھانسی لگا لی تھی۔ جیسا پولیس کہتی ہے کہ اس کی سانسیں چل رہی تھیں۔ آناً فاناً میں اسے اسپتال لے جایا گیا لیکن علاج کےدوان اس نے دم توڑ دیا۔
کاس گنج کے پولیس سپرنٹنڈنٹ روہن پرمود بوترے نے کیمرے پر بتایا کہ نوجوان، جس کا نام نابالغ لڑکی کو بھگانے میں نامزد تھا،اسے پوچھ گچھ کے لیے لایا گیا تھا۔ جیکٹ کی ڈوری سے نوجوان نے باتھ روم میں پھانسی لگائی ہے۔ لیکن پولیس کی اسٹوری پر کسی کو یقین نہیں ہو رہا ہے ۔ پولیس پر سوالوں کی جھڑلگ گئی ہے ۔ سیاست بھی گرمانے لگی ہے ۔ کانگریس – ایس پی نے سرکار کو گھیرنا شروع کردیا ہے ۔
دراصل، پولیس کی تھیوری پر اس لئے یقین کرنا مشکل ہو رہا ہے کیونکہ
1- 5 فٹ 6 انچ کا آدمی 2.5 فٹ کے نل سے کیسے لٹک سکتا ہے؟
2- اگر وہ لٹکا بھی ہوگا تو کیااسے چھٹ پاہٹ نہیں ہوئی ہوگی ؟
3- اگر چھٹ پاہٹ ہوئی ہوگی توکیا نل نے اس کاوزن برداشت کیاہوگا؟
4- ایسا مانا جاتا ہے کہ پھندے سے لٹکے شخص کا پیر اگرزمین سےاوپر نہیں ہے تو اس کی جان جا ہی نہیں سکتی ۔ پیر زمین پر رکھ کر کوئی کیسے مر سکتا ہے، یہ پولیس ہی ثابت کر سکتی ہے۔
5- الطاف کی لمبائی تو نل سے دوگنی سے زیادہ تھی تو کیا اس نے زمین پر لوٹ-لوٹ کر خودکشی کی؟
6- اس نے جیکٹ سے جڑی ٹوپی میں لگی ڈوری کے سہارے پھندہ لگایا کیاوہ ڈوری مضبوط تھی کہ اس کا وزن برداشت کر سکے؟
7- حوالات اورباتھ روم میں کچھ قدموں کی دوری ہے توکیا اس کی آواز باہر نہیں آئی ہوگی؟
جوان بیٹے کی موت کا ماتم ماننے والے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے بیٹے پر پورا اعتبار تھا۔ انہیں یقین تھا کہ ان کا بیٹا غلط نہیں کر سکتا۔ پولیس جب ان کے گھر پہنچی تو انہیں الطاف کو ان کے حوالے کر دیا۔ اس یقین کے ساتھ کہ اگربیٹا غلط نہیں ہے تو اس کےساتھ کچھ غلط نہیں ہوگا۔ جب رات کو وہ واپس نہیں آیا تووالد چاند میاں نردئی پولیس چوکی پہنچے۔ وہاںبتایا گیا کہ الطاف کو بڑے تھانہ لیا جایا گیاہے ۔









