ممبئی ؍ نانڈیر (ایجنسی)
مہاراشٹر کے ناندیڑ میں بھارت بند کی کال نے پرتشدد رخ اختیار کر لیا ہے۔ دکانیں زبردستی بند کروا دی گئیں اور پولیس پر پتھراؤ بھی کیا گیا۔ فی الحال پولس موقع پر پہنچ کر معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔ اس واقعہ سے شیواجی نگر علاقہ میں کشیدگی کا ماحول ہے۔
بتایا گیا ہے کہ یہ مظاہرہ تریپورہ واقعہ کی مخالفت میں کیا جا رہا تھا۔ ناندیڑ میں مسلم تنظیمیں سڑکوں پر نکل آئیں اور نعرے لگائیں، لیکن کچھ ہی دیر میں یہ مظاہرہ پرتشدد ہو گیا اور دکانیں بھی زبردستی بند کر ائی گئیں۔ بڑی تعداد میں سڑکوں پر پتھراؤ بھی کیا گیا اور پولیس کے ساتھ ہاتھا پائی بھی کی گئی۔ فی الحال معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ پولیس موقع پر موجود ہے اور مزید جانچ کی جارہی ہے۔
واضح رہے کہ مہاراشٹر میں ہونے والا یہ تشدد تریپورہ میں ہوئے تشددکی وجہ ہوا ہے ۔ حال ہی میں تریپورہ میں بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ تشدد دیکھنے کو ملا۔ بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر ہوئے حملے کے بعد سے ہی تریپورہ میں ماحول گرما گیا تھا ۔ مسلم تنظیموں کا الزام تھا کہ وہاں پر انہیں دھمکی دی جا رہی ہے اور حملے ہو رہے ہیں، رپورٹ تو ایسی بھی آئی تھیں کہ مساجد کو نقصان پہنچایا گیا یور توڑ پھوڑ ہوئی۔ لیکن پولیس نے اپنی جانچ میں اس خبر کومسترد کردیا۔ لیکن اس پرتشدد ماحول اور کچھ سوشل میڈیا پوسٹ کی وجہ سے پورے ملک میں تریپورہ تشدد کی مخالفت ہوئی۔
اب اسی تشدد کی وجہ سے مہاراشٹر کا ماحول گرم ہوگیا ہے۔ ناندیڑ میں مظاہرین نے ہنگامہ کیا۔ حالات بدستور کشیدہ ہیں اور بڑے پیمانے پر تشدد بھی ہوا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مالیگاؤں میں بھی تشدد دیکھا گیا ہے۔ وہاں بھی دکانوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے اور پولیس کے ساتھ تصادم بھی ہوا ہے۔
تریپورہ تشدد کی بات کریں تو وہاں بھی پولس ایکشن میں نظر آرہی ہے۔ فرقہ وارانہ تشدد کے فوراً بعد پولیس نے نہ صرف بہت سے لوگوں کو گرفتار کیا بلکہ بڑے پیمانے پر سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بھی بند کر دیا۔ ٹوئٹر کو خط لکھ کر 100 سے زائد اکاؤنٹس بند کرنے کی اپیل کی گئی۔ پولیس نے واضح طور پر کہا کہ تشدد کو سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے بھڑکا دیا گیا تھا۔ پرانی اور بے بنیاد ویڈیوز شیئر کرکے ماحول خراب کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
اب وہاں پولیس نے کارروائی کر کے معاملہ کو ٹھنڈا کر دیا، لیکن تشدد کی آگ مہاراشٹر میں پھیل گئی۔ لوگوں کو پرسکون کیا گیا ہے لیکن ماحول بدستور کشیدہ ہے۔ لوگوں کا ہجوم سڑکوں پر موجود ہے اور انہیں قابو میں رکھنا پولیس کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو رہا ہے۔









