نئی دہلی : (ایجنسی)
بھوپال میں واقع ملک کا پہلا عالمی معیار کا ریلوے اسٹیشن حبیب گنج ایک نئی شکل میں بن کر تیار ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی 15 نومبر کو اس کا افتتاح کریں گے۔ اس سے پہلے اسٹیشن کا نام بھی بدل دیا گیا ہے۔ حبیب گنج ریلوے اسٹیشن کا نام اب رانی کملا پتی اسٹیشن رکھ دیا گیا ہے۔ ریاستی محکمہ نرانسپورٹ نے اسٹیشن کا نام بدلنے کی تجویز مرکزی سرکار کو بھیجی تھی ، جسے جمعہ کو منظوری دے دی گئی۔ بتادیں کہ رانی کملا پتی بھوپال کی آخری گونڈ قبائیلی حکمراں تھیں ۔
نو تعمیر شدہ ریلوے اسٹیشن پر اب مسافروں کو شاپنگ کمپلیکس،اسپتال، مال، اسمارٹ پارکنگ، ہائی سیکورٹی سمیت کئی جدید سہولیات ملیںگی۔ آئیے!آپ کو بتادیں کہ حبیب گنج ریلوے اسٹیشن کی شروعات کب ہوئی تھی ،کیسے پڑا اس کا نام اور ایک عام ریلوے اسٹیشن سے عالمی معیار کا سفر ۔

’چوتھا پڑاؤ ‘ کتاب کے مصنف اور سینئر وجے دت سری دھر نے ’ دینک بھاسکر ‘ کو بتایا کہ حبیب گنج گاؤں کای نام تھا۔ حبیب گنج نام اس لئے پڑا،کیونکہ یہاں کی ہریالی اور جھیلیں اس کی خوبصورتی میں چار چاند لگادیتی تھیں۔
عربی زبان میں حبیب کا مطلب پیارا اور خوبصورت ۔ بھوپال کے نواب کی بیگم نے یہاں کی ہریالی اور جھیلوں کے درمیان آباد اس گاؤں کا نام حبیب گنج رکھاتھا ۔ جب ریلوے لائن بچھائی گئی، تب ایٹارسی – بھوپال کے درمیان بدھنی ، برکھیڑا ، عبداللہ گنج اور منڈی دیپ اسٹیشن بنائے گئے تھے۔ اس کے ایگرمنٹ میں تھا کہ یہ ریل لائن براڈ گیج ہوگی۔









