آگرہ : (ایجنسی)
آگرہ کے شاہ گنج میں ایک لڑکی خاتون کی مشتبہ حالات میں موت کے بعد امن و امان کی صورتحال بگڑ گئی۔ لڑکی نے چند روز قبل دوسری برادری کے نوجوان سے شادی کی تھی۔
لڑکی کی موت کی اطلاع ملتے ہی کچھ مذہبی تنظیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور ہنگامہ شروع کر دیا۔ اس دوران کچھ دکانوں میں توڑ پھوڑ بھی کی گئی۔ اس کے بعد دوسرے برادری کے لوگ بھی جمع ہوگئے جس کی وجہ سے دونوں گروپوں میں پتھراؤ اور فائرنگ کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق بی جے پی یوا مورچہ کے برج خطہ کے وزیر گورو راجاوت پر ماحول کو مشتعل کرنے کاالزام لگ رہا ہے ۔ ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے ، جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پولیس کی موجودگی میں بی جے پی لیڈر مسلمانوں کے لیے نازبیا الفاظ استعمال کرررہے ہیں ۔
صحافیوں نے جب ایس ایس پی سے موہت راجاوت کے حوالے سے سوال پوچھا تو انہوں نے کہا کہ مقامی لوگ جو بھی تحریری طور پر دیں گے، اس کے بعد آگے کی کارروائی کی جائے گی۔
آگرہ کے شاہ گنج تھانے کے چلی پاڑا میں رہنے والی 25 سالہ لڑکی نے دوسری برادری کے نوجوان سے شادی کر لی تھی۔ جمعہ کی شام لڑکی کی لاش مشکوک حالات میں ملی۔ اس کے بعد پولیس موقع پر پہنچ گئی اور لڑکی کو پوسٹ مارٹم کے لیے لے جانے کی تیاری شروع کر دی۔ گھر والے بتا رہے تھے کہ لڑکی کی موت خودکشی کی وجہ سے ہوئی ہے۔
تبھی موقع پر بی جے پی یوا مورچہ کے علاقائی وزیر گورو راجاوت اور میٹروپولیٹن صدر شیلو پنڈت سمیت کچھ دیگر کارکن پہنچ گئے۔ اس کے بعد یہ لوگ نعرے لگانے لگے۔ اس دوران پولیس کے ساتھ بدتمیزی بھی کی گئی۔
اس کے بعد دوسرے برادری کے لوگوں نے اعتراض کیا۔ عینی شاہدین کے مطابق سارا ماحول اتنی تیزی سے بدلا اور بگڑ گیا کہ پولیس کو بھی بیک اپ آنے سے پہلے ہی جائے وقوعہ سے جانا پڑا۔ جبکہ اس دوران علاقائی سی او بھی موجود تھے۔ اس دوران شاہ گنج میں کچھ دکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا اور پتھراؤ کے ساتھ ساتھ فائرنگ بھی کی گئی۔
ہنگامہ آرائی کی اطلاع ملتے ہی آئی جی نچیکیتا جھا اور ایس ایس پی سدھیر کمار سنگھ کئی تھانوں کی فورس کے ساتھ علاقے میں پہنچ گئے، جس کے بعد حالات پر قابو پایا جا سکا۔ پورے علاقے میں کشیدگی کے پیش نظر پی اے سی کی تعیناتی بھی کی گئی ہے۔
ہنگامہ آرائی کے بعد ایم ایل اے، ہندو توا لیڈر اور کارکنوں نے گھنٹوں شاہ گنج پولیس اسٹیشن کا گھیراؤ کیا۔ پولیس کی جانب سے خاتون کے شوہر کے پریوار کے پانچ افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد ہی گھیراؤ ختم ہوپایا۔ پولیس نے معاملے میں لڑکے، نوجوان کی ماں اور بہن کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 498A، 295، 304B اور جہیز ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔









