پٹنہ(پریس ریلیز)
رحمانی تھرٹی کے طلبہ وطالبات نے انجینئرنگ میں انڈر گریجویٹ داخلے کی دنیا میں سب سے سخت گیر امتحان میں سے ایک JEE Advanced میں کووڈ کے باوجودایک شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔اس امتحان میں کل 134 طلبہ نے شرکت کی تھی،جس میں 68 طلبہ نے کامیابی حاصل کی جبکہ گذشتہ سال55 طلبہ کامیاب ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ JEE Main میں کل 218 طلبہ نے شرکت کی تھی جس میں کل 185 طلبہ کامیاب ہوئے۔
JEE Main میں113 طلبہ 90 پرسنٹائل یا اس سے اوپر رہے۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی قابل تعریف کوالیفکیشن کے علاوہ طلبہ کے بہت اچھے رینکس بھی آئے ہیں۔ زوریز احمد نے JEE-ADVANCE مین 28 کٹیگری رینک حاصل کرتے ہوئے آل انڈیا 393 رینک حاصل کیا جبکہ اس نے جے ای ای مین میں کٹیگری رینک 67 اور آل انڈیا 712 رینک کے ساتھ کامیاب ہوا ہے، لڑکیوں میں منتشا فردوس نےاعلیٰ نمبر سے کامیابی حاصل کی ہے، جے ای ای مینسفزکس میں شہنواز حسین، کیمسٹری میں ضیاء بلال، ریان سلیمان اور میتھ میں ریان سلیمان نے صد فیصد پرسنٹائل کے ساتھ کامیابی حاصل کی ہے۔امن احمد نے WBJEE کے انجینئرنگ میں کیٹیگری رینک 9 اور آل انڈیا رینک 720 اور فارمیسی میں کیٹیگری رینک 10 اور آل انڈیا رینک 751 حاصل کیا ہے۔
آئی آئی ٹی یعنی انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی ملک کا سب سے نمایاں اور ممتاز انجینئرنگ کا ادارہ ہے، اور یہ انسٹیٹیوٹ آف نیشنل امپورٹینس میں بھی سب سے نمایاں ہے۔ آئی این آئی کیٹیگری ہندوستانی پارلیمنٹ کے ایک ایکٹ کے ذریعہ قائم کی گئی تھی تاکہ ہندوستانی جدت کی مسلسل کامیابی کے لئے ضروری تعلیمی تنظیموں کو شناخت اور خصوصی فنڈ فراہم کیا جاسکے۔
مذکورہ بالا مقابلہ جاتی امتحان کے ذریعہ آئی این آئی میں جاکر طلباء اعلی درجے کی تعلیم، مناسب تحقیقی سہولیات اور بین الاقوامی تحقیقی مواقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، واضح رہے کہ آئی این آئی میں تعلیم عملی طور پر مفت یا انتہائی سبسڈی پر ہوتی ہے۔واضح رہے کہ رحمانی پروگرام آف اکسلنس ملک کے کئی شہروں میں کام کر رہا ہے جیسے پٹنہ، جہان آباد (بہار) اورنگ آباد، خلد آباد (مہاراشٹر)، حیدرآباد اور بنگلور میں متعدد میڈیکل و انجینئرنگ سینٹر پوری محنت کے ساتھ مسلم مائنوریٹی طلبہ وطالبات کے مستقبل کو سنوارنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ان سینٹرز میں ملک کے مختلف صوبوں کے علاوہ بیرون ملک کے این آر آئی طلبہ وطالبات بھی مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری رحمانی پروگرام آف ایکسلنس کی نگرانی میں کر رہے ہیں، یقینا خلیج کے ملکوں میں رہنے والے ہمارے ملک کے باشندگان بھی اب اس بات کو محسوس کر رہے ہیںکہ رحمانی پروگرام آف اکسلنس مقابلہ جاتی امتحانات میں کامیابی کی ضمانت بن چکا ہے۔
رحمانی پروگرام آف اکسلنس (رحمانی 30) اپنی سرپرست تنظیم رحمانی فاؤنڈیشن کے ساتھ بہت مؤثر انداز میں کمیونٹی کی تعلیمی نا امیدی کو امید اور یقین میں بدل رہا ہے، ہر گزرتے سال کے ساتھ یہ اپنے سیکھنے کے طریقہ کار کو مؤثر بنا رہا ہے۔ حضرت امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی سرپرست رحمانی 30 نے کہا کہ یقیناً یہ سب مفکر اسلام امیر شریعت سابع مولانا محمد ولی رحمانی علیہ الرحمہ (بانی رحمانی 30) کی دعاؤں کی قبولیت اور مسلم طلبہ و طالبات کے لیے دیکھے گئے خواب کی تعبیر ہے۔ فہد رحمانی (سی ای او رحمانی 30) نے کہا کہ یقیناً یہ کامیابی جناب ابھیانند جی سابق ڈی جی پی بہار کی انتھک محنت و رہنمائی، سینئر لیڈر شپ، فیکلٹی، مینجمنٹ ودیگر عملہ کے ساتھ طلبہ اور ان کے گارجین کے درمیان مقصد کی شناسائی اور باہمی تعاون ہی کی وجہ سے ممکن ہوسکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ہم سب کا باہمی تعاون نہ ہو تو ایسی تاریخ ساز کامیابی کا حصول ہرگز ممکن نہیں۔
فہد نے والد بزرگوارمولانا محمد ولی رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کو اس موقع پر یاد کرتے ہوئے کہا کہ ایک موقع پر اس سال کے رزلٹ سے مایوس ہوگیا تھا، والد صاحب ؒ نے مجھے حوصلہ دیا ، ان کی باتوں سے ہی حوصلہ پاکر جو ٹوٹے پھوٹے وسائل تھے، ان کے ساتھ کام شروع کیا، اور اللہ نے یہ کامیابی دی، جس پر آج ماہرین کو حیرانی ہورہی ہے، انہوںنے کہا کہ رحمانی 30انشاء اللہ آگے اس سے اور بہتر کرے گا، اور اپنے پچھلے ریکارڈ کو توڑے گا۔









