علی گڑھ:(یجنسی)
اترپردیش کے کاس گنج ضلع میں پولیس حراست میں 22 سالہ نوجوان کی موت کے بعد متاثرہ کے اہل خانہ نے خودکشی کی تھیوری کو مسترد کرتے ہوئے انصاف اور ذمہ دار لوگوں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ پولیس متوفی الطاف کے والد کا مبینہ طور پر دستخط شدہ ایک خط دکھا رہی ہے جس میں پولیس کو کلین چٹ دینے کی بات کہی گئی ہے۔ لواحقین نے الزام لگایا کہ پولیس نے اس خط کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔
متوفی نوجوان کے چچا ابرار احمد نے یہاں نامہ نگاروں کو بتایا کہ وہ خط جس میں الطاف کے والد کے انگوٹھے کے نشان ہیں اور جسے پولیس کلین چٹ کا دعویٰ کرنے کے لیے دکھا رہی ہے، پولیس نے دباؤ میں آکر حاصل کیاتھا۔ ابرار نے گزشتہ رات علی گڑھ کےپریس کلب میں صحافیوں سے کہاکہ ، ’’میرا بھائی ناخواندہ ہے اور اس کے انگوٹھے کا نشان کاغذ کے ایک ٹکڑے پر لیا گیا جب وہ صدمے کی حالت میں تھے۔‘‘
انھوں نے کہا، ‘میرا بھائی مشکل سے چل پاتا ہے اور اسی لیے میں ان کی طرف سے بات کرنے علی گڑھ آیا ہوں۔انھوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کاس گنج پولیس نے پریوار کے ایک فرد کو پانچ لاکھ روپے کی رقم دی ہے ،لیکن انہیں نہیں معلوم کہ یہ پیسہ کسے دیاگیا کیونکہ ان کے بھائی بولنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ ابرار نے کہاکہ ہماری اہم مانگ یہ ہے کہ قصور واروں کو مناسب سزا دی جائے کیونکہ الطاف کےذریعہ خودکشی کرنے کی پولیس کی کہانی پورطرح سے من گھڑت ہے ۔
دوسری جانب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے طلباء نے کیمپس میں احتجاجی مارچ نکالا اور الہ آباد ہائی کورٹ کے موجودہ جج سے عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
لواحقین کا الزام ہے کہ ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں نے الطاف کو مارا لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ الطاف نے لاک اپ کے واش روم میں اپنی جیکٹ کی ڈوری سے لٹک کر خودکشی کی۔الطاف کی موت کے بعد پولیس سپرنٹنڈنٹ روہن پرمود بوترے نے بتایا تھا کہ نگلہ سید کے رہائشی الطاف کو نابالغ لڑکی کو ورغلانے کے معاملے میں پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لے لیا گیا تھا۔ ایک ہندو پریوار نے لڑکی کی گمشدگی کی شکایت درج کرائی تھی۔
اس نے بتایا کہ پوچھ گچھ کے دوران الطاف نے ٹوائلٹ جانے کا کہا تو اسے لاک اپ کے اندر بنائے گئے ٹوائلٹ میں جانے کی اجازت دی گئی جہاں اس نے جیکٹ کے ہک کے ساتھ لگی ڈوری کو ٹوائلٹ کے نل میں پھنسا کر گلا دبانے کی کوشش کی۔
پولس کے اس دعوے پر سوال اٹھ رہے ہیں کیونکہ یہ نل صرف دو سے تین فٹ اونچا تھا۔اپوزیشن پارٹیوں نے اس معاملے کو لے کر ریاست کی یوگی حکومت اور یوپی پولس کو نشانہ بنایا تھا اور منصفانہ جانچ کا مطالبہ کیا تھا۔
اقلیتی کمیشن نے نوجوان کی حراست میں موت کے معاملے میں یوپی انتظامیہ سے رپورٹ طلب کی ہے ۔قومی اقلیتی کمیشن نے اس معاملے میں ریاستی انتظامیہ سے 15 دنوں کے اندر رپورٹ طلب کی ہے۔اقلیتی کمیشن کے چیئرمین اقبال سنگھ لال پورہ نے صحافیوں کو بتایا کہ اتر پردیش پولیس نے رپورٹ طلب کی ہے۔ ڈائریکٹر جنرل اور چیف سکریٹری کو خط بھیجا۔انہوں نے کہا کہ میڈیا میں آنے والی خبروں کا نوٹس لیتے ہوئے ہم نے ڈی جی پی اور چیف سکریٹری کو خط لکھا ہے۔ 15 دن میں رپورٹ طلب کی گئی ہے۔









