علی گڑھ ( ایجنسی)
سیاسی جماعتوں کی کنگنا رنوت کے’بھیک میں ملی آزادی‘ والے بیان پر مخالفت جاری ہے ۔ آئی ایم آئی ایم کے صدر اسد الدین اویسی نے اسے مسلمانوں سے جوڑتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی مسلمان ایسا کہتا تو یوپی پولس گولی مار دیتی۔
یوپی کے علی گڑھ میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ اگر کسی نے یہ بات مسلم کمیونٹی سے کہی ہوتی تو اس پر غداری کا مقدمہ درج ہو جاتا۔ انہوں نے کہا کہ حد تو یہ ہو گئی ایک محترمہ کوہمارا سب سے بڑا شہری ایواڈ دیا گیا وہ محترمہ ایک ٹی وی کےانٹرویو میں کہتی ہیں کہ ملک کو آزادی 2014 میں ملی۔ اگر وہ بات مسلمان کہتا تو اب تک اس پر یو اے پی اے لگ گیا ہوتا۔
مزید اویسی نے کہا کہ ’مسلم نوجوان کو جیل میں ڈالنے سے پہلے اسے تھانے لے جا کر اسے گھٹنے کے نیچے گولی مار دی جاتی اور بولتے تو نے غداری کی۔ مگر وہ رانی ہے۔ آپ مہاراجا ہے، کوئی کچھ نہیں کہتا۔‘
اس دوران اویسی نے یوگی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ پاکستان کی جیت کا جشن منانے والوں کو انتباہ دیتےہیں، لیکن کنگنا پر خاموش ہیں۔ انہوں نے کہا- غلطی سے بھی ہمارے منہ سے کچھ نکل جاتا، پاک بھارت میچ پر غلطی سے کسی نے کچھ لکھ دیا تو بابا نے کہا کہ غداری کا الزام لگا کر جیل میں ڈال دیاجائے گا۔ میں اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ سے پوچھ رہا ہوں، میں ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی سے پوچھ رہا ہوں کہ کیا ملک 1947 میں آزاد ہوا، کیا 2014 میں آزاد ہوا؟ اور اگر یہ غلط ہے تو ملک کے وزیر اعظم اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ پر غداری کا الزام لگائیں گے۔ کیا غداری کا مقدمہ صرف مسلمانوں کے لیے ہے؟
بتا دیں کہ ایک نیوز چینل پر ایک پروگرام کے دوران کنگنا نے کہا تھا کہ ہمیں جو آزادی ملی ہے وہ بھیک میں ملی ہے۔ اصل آزادی 2014 میں ملی ہے۔ کنگنا کے اس بیان کے بعد ہنگامہ برپا ہوگیا اور لوگوں نے اس پر شدید تنقید شروع کردی۔ اس بیان کے لیے کنگنا کے خلاف کئی مقدمات درج کیے گئے ہیں۔









