نئی دہلی :(ایجنسی)
کانگریس کے سینئر لیڈر سلمان خورشید کی کتاب ’سن رائز اوور ایودھیا: نیشن ہڈ ان آر ٹائمز‘ میں کہا گیا ہے کہ 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کے انہدام کے بعد یونین کونسل کی میٹنگ ہوئی اور جب وزراء نے یہ بتانے کی کوشش کہ وہ تمام اس وقت کے وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ کے لیے کیسامحسوس کررہےہیں ،؟ تو راؤ بولے کہ مجھے آپ کی ہمدردی کی نہیں چاہئے۔
کانگریس کے سینئر لیڈر سلمان خورشید کی کتاب ان دنوں زیر بحث ہے۔ اس کتاب کا نام ہے: سن رائز اینڈ اوور ایودھیا : نیشن ہڈان آر ٹائمز ‘ ۔ یہ کتاب زیر بحث اس لئے بھی ہے کہ کیونکہ اس میں بابری مسجد سانحہ سے لے کر ایودھیا میں رام مندر کامکمل اسکرپٹ موجودہے ۔ اس کتاب میں آر ایس ایس کا موازنہ شدت پسند تنظیموں سے کرنے پر خورشید بھگوا دھاری لوگوں کے نشانے پر ہیں۔
سلمان خورشید نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ اس ناقابل تصور واقعے نے آہستہ آہستہ ایک طرح سے سب کو دنگ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ انہدام اتوار کو ہوا اور 7 دسمبر کی صبح وزراء کونسل کے ارکان پارلیمنٹ ہاؤس کے گراؤنڈ فلور پر واقع ایک پرہجوم کمرے میں جمع ہوئے۔ سب رنجیدہ تھے اور اجلاس میں خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ خورشید یاد کرتے ہیں، بظاہر زیادہ تر اراکین کے پاس الفاظ نہیں تھے، لیکن مادھو راؤ سندھیا نے خاموشی توڑی اور بتایا کہ ہم سب وزیر اعظم نرسمہا راؤ کے لیے کیسا محسوس کرتے ہیں۔؟ متعلقہ وزیر اعظم کے ردعمل نے ہمیں حیران کر دیا جب انہوں نے جواب دیا کہ مجھے آپ کی ہمدردی نہیں چاہیے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ راؤ کے سخت جواب کے بعد اس موضوع پر دوبارہ بات کرنے کا موقع نہیں ملا اور میٹنگ ختم ہوگئی۔
سابق وزیر خارجہ خورشید کا کہنا ہے کہ کلیان سنگھ کی اتر پردیش حکومت کو 6 دسمبر کو ہی برخاست کر دیا گیا تھا اور ایک ہفتہ بعد ہماچل پردیش، راجستھان اور مدھیہ پردیش میں بی جے پی کی حکومتوں کو صدر نے کابینہ کے مشورے پر برطرف کر دیا تھا۔ خورشید یہ بھی لکھتے ہیں کہ 6 دسمبر کی رات وہ اور کچھ دوسرے نوجوان وزیر راجیش پائلٹ کی رہائش گاہ پر جمع ہوئے اور پھر ایک ساتھ سی کے جعفر شریف کے پاس گئے۔
انہوں نے کہا کہ پرنسپل سکریٹری اے این ورما کو فون کیا گیا، جنہوں نے مشورہ دیا کہ ہم وزیر اعظم سے بات کریں۔ ہم نے وزیر اعظم سے رابطہ کیا اور انہیں مشورہ دیا کہ راجیش پائلٹ کو اس گروپ میں شامل کیا جائے جو فیض آباد جا رہا تھا۔خورشید نے لکھا کہ راؤ نے جواب میں ہمیں اے این ورما سے دوبارہ بات کرنے کو کہا اور اس طرح کچھ دیر تک الجھن جاری رہی، جب تک ہمیں بتایا گیا کہ وزیراعظم دستیاب نہیں ہوں گے۔ اس رات (بابری انہدام کی رات) کچھ نہیں ہو سکا۔
خورشید نے لکھا، اس وقت حکومت کے کسی سینئر افسر کے لیے اس بات کی سب سے زیادہ تھی کہ مسجد کے انہدام کے دوران منتقل کی گئی مورتیوں کو اس مقام پر پھر سے نصب کرنے سے پہلے اس معاملہ میں مداخلت کرے۔ انہوں نے مزید کہاکہ پھر سے مورتیاں نصب کی گئیں ،لیکن اگلی صبح جب یہ لگا کہ مورتیوں کے اوپر ایک چھت رکھی جائے گی، تو سرکار کار سیوکوں کی بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے آگے بڑھی ۔
خورشید کے مطابق مندر- مسجد کی سیاست نے اتر پردیش میں کانگریس کو وجودی بحران میں ڈال دیا اور سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج وادی پارٹی کے عارضی طور پر بااختیار ہونے کے بعد بی جے پی کو ریاست اور پھر مرکز پر غلبہ حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا۔









