نئی دہلی:(ایجنسی)
نینی تال میں کانگریس لیڈر سلمان خورشید کے گھر میں پیر کو آتشزنی اور توڑ پھوڑ کی گئی، جس کی تصویر انہوں نے خود سوشل میڈیا پر شیئر کی ہے۔ سلمان خورشید آر ایس ایس کا موازنہ آئی ایس آئی آیس سے کئے جانے بعد ہندوتوا تنظیموںکے نشانہ پر ہیں۔
اپنی فیس بک وال پر آتش زنی اور توڑ پھوڑ کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے خورشید نے لکھا، ’کیا میں اب بھی غلط ہوں؟‘ انہوں نے لکھا، ‘تو اب بحث اس طرح کی ہے۔ شرم بہت بے اثر لفظ ہے۔ اس کے علاوہ میں اب بھی امید کرتا ہوں کہ ہم ایک دن مل کر سوچ سکتے ہیں۔ اور اگر زیادہ نہیں تو اختلاف کرنے پر متفق ہو سکتے ہیں۔ سلمان خورشید نے آگے لکھا’’کیا میں اب بھی غلط ہوں کہ یہ ہندوازم نہیں ہوسکتا۔‘
غور طلب بات یہ ہے کہ کانگریس لیڈر سلمان خورشید نے اپنی کتاب ’سن رائز اوور ایودھیا: نیشن ہڈ ان اوور ٹائمز‘ میں ہندوتوا پر سوال اٹھایا ہے اور اس کا موازنہ آئی ایس آئی ایس جیسی دہشت گرد تنظیم سے کیا ہے جس کے بعد وہ مسلسل ہندوتوا حامی تنظیموں کے نشانہ پر ہیں۔
دوسری جانب ایک روز قبل ہندو جاگرن منچ نگر اکائی کی ایگزیکٹیو کمیٹی نےکانگریس لیڈر سلمان خورشید کی کتاب ’ سن رائز اوور ایودھیا: نیشنل ہڈ اوور ٹائمز‘ میں ہندوؤں کا موازنہ بوکوحرام اور آئی ایس آئی ایس سے کئے جانے سے ناراض ہو کر ان کی مخالفت میں پکا باغ چوپال پر کانگریس لیڈر کا پتلہ نذر آتش کیا تھا اور نعرے بازی کی تھی۔ منچ نے اس تعلق سے وزیر اعظم کے نام ایک میمورینڈم بھی ضلع مجسٹریٹ کو سونپا تھا۔ احتجاجی مظاہرہ ہندو جاگرن منچ کے ضلع نائب صدر ٹکی رام گرگ کی قیادت میں منعقد کیا گیا۔
وہیں سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید کی کتاب کی اشاعت، سرکولیشن اور فروخت کو روکنے کے لیے دہلی کی ایک عدالت میں درخواست دائر کی گئی ہے۔ شکایت کنندہ کے وکیل نے ہفتہ کو یہ جانکاری دی۔









