اردو
हिन्दी
جون 19, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

عظیم شخصیات کی، توہین وتکریم میں انتخاب کا معاملہ

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ Uncategorized
A A
0
130
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp


مولانا عبدالحمید نعمانی
کوئی بھی سماج ہو، اس میں کچھ علائم و اشخاص کی تکریم و تعظیم کا لازما ًلحاظ رکھا جاتا ہے، اس کے بغیر سماج کو پاکیزگی وخیر کی طرف نہیں لے جایا جاسکتا ہے اور نہ اس کے لیے راہ ہموار ہوسکتی ہے، اس کے پیش نظر آدرش کو سامنے رکھنے اورلانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ برہمن وادی سماج اب تک کامل جامع آئیڈیل،اتھارٹی کے طور پر کسی نظریہ ونظام حیات کو پیش کرنے میں ناکام رہا ہے، اس خلاء نے اسے منفی راستے پر ڈال دیا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جارحانہ اور توہین و تضحیک کے لیے بھی سناتن سنسکرتی میں کوئی جگہ نہیں ہے ،اس بات کو آر ایس ایس کے بانی ڈاکٹر کیشو بلی رام ہیڈگیوار اوراس کے سب سے بڑے فکری و نظریاتی رہ نما، مادھوسداشیوگولولکر بھی اچھی طرح سمجھتے تھے۔ اس لیے انہوں نے ہندوتو کی جارحانہ و منفی تحریک تو چلائی اور ہندو راشٹر کے قیام کے لیے سدا کوشاں رہے لیکن اسلام کی تعلیمات و احکام کو نشانہ بنانے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پرکسی طرح کی غیر ذمے دارانہ تنقید و تبصرے سے بھی پوری طرح گریز کیا ،توہین و تضحیک کی بات تودور کی ہے۔ حالاں کہ ڈاکٹر ہیڈگیوار اور گروگولولکر کے سامنے آریا سماج اور رنگیلا رسول، بویا پیڑببول کا جیسی کتابیں لکھنے والوں کی پوری سرگرمیاں اور تاریخ موجود تھی، دیانند سرسوتی کی ستیارتھ پرکاش میں جس طرح بے بنیاد قسم کے تنقید و تبصرے کیے گئے ہیں، ان کا معقول و علمی جوابات مولانا ثنااللہ امرتسری ؒنے حق پرکاش لکھ کر ایک طرح سے دیا نند سرسوتی کے ناقص مطالعے اسلامی تعلیمات سے بے خبری اور ذہنی کجی کو پوری طرح بے نقاب کردیا تھا، مولانا امرتسریؒ نے رنگیلا رسول کا جواب مقدس رسول رقم کرکے تضحیک پسندوں کو خاک نامرادی چٹادی تھی، لیکن بعد کے دنوں میں پیدا ہونے والے ہندوتووادی، مسلم علما و محققین کے جوابات سے قطعی طورسے نابلد واقع ہونے کے سبب پرانی باتوں کی جگالی کرنے میں اب تک لگے ہوئے ہیں۔ غالبا آرایس ایس کے بانی ڈاکٹر ہیڈگیوار اورگرو گولولکر اور دیگر سنگھ سر سنچالکوں کے سامنے گاندھی جی جیسے سنجیدہ اشخاص کا رول رہا ہوگاجنھوں نے دیانند سرسوتی اور ان کی کتاب ستھیارتھ پرکاش سے ناپسندیدگی و ناراضی کا اظہار کیا تھا، اس سے آریا سماجی اورتحریک سے متاثر افراد، گاندھی جی سے بڑے ناراض رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں سنجیدہ علمی و نظریاتی بحث کے بجائے فرقہ وارانہ تصادم و تضحیک کو فروغ ملا۔ ایسی صورتحال میں باہمی بہتر تعلقات کا قیام اور توہین وتکریم میں آزادانہ انتخاب کی راہ ہموار نہیں ہوپاتی ہے اور خیر کو اختیار کرنے اورمذہب پر عمل سے زیادہ نعرے پر توجہ مرکوز ہوکر رہ جاتی ہے۔ یہ کسی بھی سماج کے لیے مضر اور نظریاتی واخلاقی طور سے اسے دیوالیہ بنا دیتا ہے، اس کا احساس غالبا آر ایس ایس کے موجودہ سربراہ ڈاکٹرموہن بھاگوت کو ہورہا ہے ،انہوں نے حال ہی میں ایک خطاب میں کہا:
ــــــ’’ہم ان دنوں جے شری رام کا نعرہ بہت جوش سے لگاتے ہیں، اس میں کچھ برا نہیں ہے لیکن ہمیں ان کے نقش قدم پر بھی چلنا چاہیے، دنیا کے تمام ممالک میں جتنی عظیم شخصیات ہوئی ہوں گی اتنی ہمارے ملک میں دوسوبرسوں میں ہوئی ہیں، لوگ ایسی عظیم شخصیات کی پوجا، یوم پیدائش، جے جے کار، یہ سب کریں گے جیسے ابھی بڑے زور سے جے شری رام ہم کہتے ہیں، ہمیں کہنا بھی چاہیے۔ لیکن شری رام جیسا ہونا بھی چاہیے، ہم سوچتے ہیں کہ وہ تو بھگوان تھے، ارے بھرت جیسے بھائی سے شری رام ہی پریم کریں گے ہم کیوں کریں گے۔ کیوں کہ ہم نہیں کرسکتے ہیں۔ عام آدمی کا یہی تاثروردعمل ہوتا ہے‘‘(آج تک 21 نومبر2021)
ایسا ہندو سماج میں ہوا کیوں کہ رام چندر کے نام کا لوگ نعرہ تو لگاتے ہیں، لیکن ان کے نقش قدم پر چلنے پرکوئی توجہ نہیں دیتا۔ خدا ہونے کی صورت میں اس جیسا ہونے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ خدا کا کوئی نقش قدم کہاں ہوتا ہے کہ اس پرآدمی چلے، خدا انسانی سماج کے لیے معبود ہوسکتا ہے۔ آئیڈیل نہیں اس کی طرف ڈاکٹربھاگوت توجہ تو دلانا چاہتے ہیں لیکن مخصوص تصورات پر تشکیل پاچکے سماج کے برخلاف پوری بات کھل کر کہنا نہیں چاہتے ہیں، جنہوں نے رام جی کو آدرش کے روپ میں پیش کیا انہوں نے آدرش کے تقاضوں اورانسانی سماج کی ضرورتوں کے مطابق ان کی عظیم شخصیت اور تعلیمات اور نمونہ عمل کو سامنے لانے کا کام نہیں کیا، ڈاکٹربھاگوت اور دیگر بہت سے لوگ، رام چندر کو خود عظیم شخصیات کے طور پر پیش کرتے ہیں، مگر ان کو ایسی حیثیت و صورت میں پیش کرتے ہیں کہ سماج سے آدرش ختم ہوکر رہ گیا ہے۔ یہ آرایس ایس کے بانی ڈاکٹرہیڈگواراچھی طرح سمجھتے تھے کہ عظیم شخصیات کو انسانی زمرے سے باہر کرنے کے بعد ان کے نقش قدم پرچلنے کی بات زیادہ بامعنی نہیں رہ جاتی۔ اس پر عموماً گذشتہ کچھ برسوں سے، خصوصا جب سے رام کے نام پرمندر تعمیر تحریک شروع ہونے کے بعد سے پردہ ڈالنے کی کوشش ہورہی ہے، ڈاکٹر ہیڈگیوار، رام، کرشن اور دیگر عظیم شخصیات کو معبود اوربھگوان کے زمرے میں رکھنے کے خلاف تھے۔ آزادی سے پہلے ان کا یک خطاب، ’’راشٹریہ سویم سیوک سنگھ تتوبیوہارـ‘‘ کے نام سے سنگھ کے اشاعتی ادارہ لوک پرکاشن، سنسکرتی بھون راجندر نگر لکھنو سے کتابی شکل میں شائع ہوا تھا، ہمارے سامنے 1997 کا اڈیشن ہے۔ ڈاکٹر ہیڈ گیوار نے اس میں آدرش شخصیات کے لیے جن خصوصیات و اوصاف کا ذکر کیا ہے، وہ تقریبا اسلامی تصور نبوت و رسالت سے ملتے جلتے ہیں، غالبا اسی لیے اس خطاب کو منظر عام سے تقریبا غائب کردیا گیا ہے۔ اس کے پیش نظر ہم نے وقت کا تقاضا اور ضرورت سمجھتے ہوئے 300 صفحات پر مشتمل اپنی کتاب’’ سنگھ بانی ڈاکٹر ہیڈگیوار، حیات و تحریک‘‘ میں خطاب کے ضروری حصے اور نکات کو شامل کردیا ہے۔ ڈاکٹر ہیدگیوار نے کہا ہے کہ عظیم شخصیات کے سلسلے میں کچھ غلط تصورات سماج میں قائم ہوگئے ہیں۔ رام ،کرشن جیسے کامل انسان کو ایشیور یا اوتار کے زمرے میں ڈھکیل کر ہم ایسا سمجھ لیتے ہیں کہ ان کی خوبیوں کو اپنانا ہماری طاقت سے باہر ہے۔ احمقانہ کجی سے سمجھ لیتے ہیں کہ گرنتھوں، رامائن، مہابھارت، گیتا پڑھنے کا مقصد خوبیوں کو اپنانا نہیں بلکہ ثواب کمانے اور نجات کے لیے ہے جہاں کہیں بھی کوئی باکردار یا عظیم ذمے دار فکر کا حامل انسان پیدا ہوا کہ بس ہم اسے اوتاروں کی صف میں ڈھکیل دیتے ہیں اور اس پر خدائی لادنے میں ذرا دیر نہیں لگاتے ہیں۔ ہماری ہندو قوم کے زوال کے اسبا ب میں سے ایک سبب یہ جذبہ بھی ہے ،اس کے تحت خوبیوں کو اپنے عمل میں نہیں لاتے ہیں۔ (تفصیل کے لیے دیکھیں مذکورہ کتاب کا صفحہ 48 تا 52)
مسلم سماج کے مؤقر علماء صوفیا نے بھارت کی معروف شخصیات کو قابل احترام قرار دیتے ہوئے انہیں عظیم رہنما شخصیات کے زمرے میں ہی رکھا ہے اس سلسلے میں حضرات شیخ احمد سرہندیؒ، مرزا مظہر جان جانؒ، شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ، قاضی ثنااللہ پانی پتیؒ، شاہ عبدالرحمن چشتیؒ، مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، مولانا مناظراحسن گیلانیؒ کے اسمائے گرامی خاص طورسے لیے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے اپنی تحریروں اور بیانات میں رام چند، شری کرشن اور گوتم بدھ کے متعلق اپنے زمانے کے ہادیوں میں سے ہونے کی بات کہی ہے۔ حضرت نانوتویؒ کی ہدایت تھی:
’’ ہندو اقوام کے بڑوں کو مثل رام چندر جی اور کرشن جی کو نام لے کرکبھی برا نہ کہو اور کوئی توہین آمیز کلمہ ان کی شان میں نہ کہو ممکن ہے کہ اپنے وقت میں یہی مردان حق ہوں جو بطور ہادی نذیر بھیجے گئے اور شرائے حق لے کر ہندوستان کی اصلاح کے لیے آئے ہوں لیکن مرور ایام سے بعد کے لوگوں نے ان کی شریعتیں مسخ کردی ہوں۔‘‘
(اسلام اور فرقہ واریت صفحہ 26 مطبوعہ تاج المعارف دیوبند 1956)
بھارت میں بہت سے سنجیدہ، دیانت دار اورذی علم غیر مسلم حضرات نے بھی رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق قابل احترام جذبے و رویے کا اظہار کیا ہے اس کی نمایاں مثال ڈاکٹر وید پرکاش اورا ن کی کتاب کلکی اوتار ہیں۔ بھارت میں محترم شخصیات کے سلسلے میں گزرتے دنوں اور وقت کے تقاضوں کے تحت ان کے نقوش قدم پرچلنے کا مسئلہ ہے۔ چاہے عظیم شخصیات کو انسانی زمرے میں رکھا گیا ہو یا انسانی زمرے سے باہر کردیا گیا ہوملک میں تکریم و تعظیم کی روایت ختم نہیں ہوئی ہے لیکن کچھ عناصر جاری روایت کو ختم کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ تاہم یہ کوشش کامیاب نہیں ہوسکتی ہے۔ پاپ سے پریم تک رسائی کے بعد ہی آدمی پرکاش (روشنی) سے مل سکتا ہے، آدرش کے سلسلے میں سوچنے سے ہی سوچوں میں اجالے پھیل جاتے ہیں، ایسا تکریم سے ہوتا ہے نہ کہ توہین سے، اس کے پیش نظر توہین و تکریم کے درمیان انتخاب کبھی مشکل نہیں رہا ہے۔
noumani.aum@gmail.com

ٹیگ: اداریہکالم

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

Uncategorized

امریکی تھنک ٹینک نے کیوں کہا: 2026 میں ہندوپاک کے درمیان جنگ ہوگی؟ یہ ہیں وجوہات

31 دسمبر
Iran Israel War Warning
Uncategorized

ایرانی وزیر خارجہ نےکہا، ہم پر ایک حملہ ہوسکتا ہے،جنگ کے لیے پہلے سے زیادہ تیار، اسرائیل کا بھی جواب آیا

22 دسمبر
Uncategorized

ترکیہ کی خاتون اول امینہ ایردوان کا غزہ کے حالات پر میلانی ٹرمپ کے نام  خط،حساسیت کے مظاہرہ کی اپیل

23 اگست
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
ٹرمپ پزشکیان معاہدہ

صدر ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے 14 نکاتی تاریخی امن معاہدے پر دستخط کر دیے

جون 18, 2026
سماجوادی پارٹی، اکھلیش یادو، بی جے پی

سماجوادی پارٹی میں پھوٹ یا بی جے پی کا سیاسی بیانیہ؟

جون 18, 2026
Khan Sir News

خان سر کی بڑھ سکتی ہیں مشکلات! بھائی پرنس کی موت پر FIR کروانے تھانے پہنچے راؤشن آنند

جون 17, 2026
اکھلیش یادو کا بی جے پی پر حملہ

‘جب زمین کھسکتی ہے تو بی جے پی کو پھوٹ نظر آتی ہے’: اکھلیش یادو کا یوگی حکومت کو کرارا جواب

میلونی ٹرمپ تنازع

‘نہ میں نے منت کی، نہ اٹلی جھکا’، میلونی کا ٹرمپ کے بیان پر دوٹوک جواب

مودی نے راہل گاندھی کو مبارکباد دی PM Modi Wishes Rahul Gandhi On Birthday

56 سال کے ہوئے راہل گاندھی، پی ایم مودی نے دی مبارکباد

ایران جنگ لائیو اپڈیٹ

ایران تاریخی امن معاہدہ خطرے میں! اسرائیل کے حملوں پر ایران نے روکے مذاکرات، امریکی نائب صدر کا دورہ منسوخ!

اکھلیش یادو کا بی جے پی پر حملہ

‘جب زمین کھسکتی ہے تو بی جے پی کو پھوٹ نظر آتی ہے’: اکھلیش یادو کا یوگی حکومت کو کرارا جواب

جون 19, 2026
میلونی ٹرمپ تنازع

‘نہ میں نے منت کی، نہ اٹلی جھکا’، میلونی کا ٹرمپ کے بیان پر دوٹوک جواب

جون 19, 2026
مودی نے راہل گاندھی کو مبارکباد دی PM Modi Wishes Rahul Gandhi On Birthday

56 سال کے ہوئے راہل گاندھی، پی ایم مودی نے دی مبارکباد

جون 19, 2026
ایران جنگ لائیو اپڈیٹ

ایران تاریخی امن معاہدہ خطرے میں! اسرائیل کے حملوں پر ایران نے روکے مذاکرات، امریکی نائب صدر کا دورہ منسوخ!

جون 19, 2026

حالیہ خبریں

اکھلیش یادو کا بی جے پی پر حملہ

‘جب زمین کھسکتی ہے تو بی جے پی کو پھوٹ نظر آتی ہے’: اکھلیش یادو کا یوگی حکومت کو کرارا جواب

جون 19, 2026
میلونی ٹرمپ تنازع

‘نہ میں نے منت کی، نہ اٹلی جھکا’، میلونی کا ٹرمپ کے بیان پر دوٹوک جواب

جون 19, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN