پٹنہ : (ایجنسی)
بہار میں ہریانہ کے طرز پر کھلے میں نماز ادا کرنے پر روک لگانے کی مانگ کو وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے مستر د کردیاہے ۔ سی ایم نے کہہ دیا ہےکہ ان کے لئے ان سب چیزوں کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ معلوم نہیں کیوں ، ان سب چیزوںکو مدعا بنایا جا رہاہے۔ حکمراں اتحاد کی اتحادی پارٹی بی جے پی کی جانب سے یہ مانگ اٹھائی گئی ہے ۔
سڑک پر نماز کی اجازت نہ دینے کے مطالبے پر سی ایم نتیش کمار نے دو ٹوک الفاظ میں کہا، ‘اس سب کا کیا مطلب ہے؟ کون عبادت کرتے رہتا ہے اور کون گاتے رہتا ہے، یہ سب کوئی مسئلہ ہےکیا؟ ہر ایک کی اپنی رائے ہے۔ میرے لیے سب لوگ برابر ہیں۔ ان تمام موضوعات پر بحث کرنے کا کیا فائدہ؟سبھی لوگ تو باہر ہی یہ سب ( پراتھنا) کرتے رہتے ہیں ۔ تمام مذاہب کو اس کا خیال رکھنا چاہئے۔ معلوم نہیں کیوں ، ان سب چیزوں کو مسئلہ بنایا جا رہاہے؟ میرے لے تو ان سب چیزوں کا کوئی مطلب نہیں ہے۔
دراصل، بی جے پی ایم ایل اے ہری بھوشن ٹھاکر نے یہ مطالبہ اٹھایا ہے کہ کھلی جگہوں یا سڑک پر نماز ادا کرنے پر روک لگنی چاہیے۔ بسفی کے ایم ایل اے ٹھاکر نے اپنے متنازع بیان میں کہا، ’95 فیصد مسلمان ہندوستان کے ہندوؤں سے تبدیل ہوئے ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں تو آج ہی ڈی این اے ٹیسٹ کروا لیں۔ بھارت کو بھی پاکستان بنانے کی سازش ہو رہی ہے۔ بہار میں بھی اگر نماز کھلے اور سڑکوں پر ہوتی ہے تو اس پر پابندی لگائی جائے۔
اس کے علاوہ مظفر پور سے بی جے پی ایم پی اجے نشاد نے بھی کھلے میں نماز پر پابندی کا مطالبہ کیا۔ رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ کہیں بھی کوئی کھلے میں نماز پڑھے، یہ اچھی بات نہیں ہے۔ نماز مسجد میں پڑھی جائے یا اپنے گھر میں۔









