چتر کوٹ :(ایجنسی)
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے چترکوٹ میں کہا کہ ہندوؤں کو اپنی انا اور خود غرضی کو پیچھے چھوڑ کر کام کرنا ہوگا اورساتھ ہی انہوں نےہندو دھرم چھوڑ کر دیگرمذاہب میں گئےلوگوںکی گھر واپسی کی اپیل کی۔
سنگھ کے سربراہ نے وہاں موجود تمام لوگوں کو حلف دلایا کہ وہ ان لوگوں کی بھر واپسی کے لیے کام کریں جنہوں نے ہندو مذہب چھوڑ کر دوسرے مذہب اختیار کرچکے ہیں۔
بھاگوت نے کہا، ’ہم لوگوں کو کیا کرنا ہے ،اس کے بارے میں تو آپ کو ایک سرکاری ہدایت اب تک ملی ہے ، کرنا ہم کو ہے،یہ دھیان میں رکھنا پڑے گا۔ یہ بات تو ساری دنیا مانتی ہے، اپنا تجربہ ہے،اتحاد کی طاقت ہے اورپائیدار اتحاد خود غرضی سے نہیں ہوتی، ڈرسے نہیںہوتی، ڈر آدمیوں کو باندھ کر نہیں رکھتا ،مجبوری ختم ہونےکےبعد اتحاد بھی ٹوٹ جاتا ہے ۔
اس دوران انہوں نے سورگ کی سیڑھی بنانے پر مبنی کہانی سنائی اورکہاکہ ’ہمیں اگر ایک ہونا ہے تو انا اورخود غرضی کو چھوڑ کر ہمیں اپنے پیاروں کے لیے بلا خوف و خطر کام کرنا ہوگا۔
وہاں موجود تمام لوگوں نے سنگھ کے سربراہ کے ساتھ یہ حلف لیا، ’’میں ہندو ثقافت کے مریدا پرشوتم پربھو شری رام کی سنکلپ استھلی پر سرو شکتی مان پرمیشور کو گواہ مان کر سنکلپ لیتا ہوں کہ اپنے مقدس ہندو دھرم ، ہندو ثقافت اور ہندو سماج کے تحفظ کے لیے فروغ کے لیے زندگی بھر کام کروں گا ۔
’’میں عہد کرتا ہوں کہ میں کسی ہندو بھائی کو ہندو مذہب سے منھ موڑنے نہیں ہونے دوں گا۔ جو بھائی دھرم چھوڑ کر چلے گئے ہیں، ان کی بھی گھر واپسی کے لیے کام کروں گا۔ انہیں پریوار کا حصہ بناؤں گا ۔ میں عہد کرتا ہوں کہ ہندو بہنوں کی عصمت، احترام و آبرو کی حفاظت کے لیے سب کچھ قربان کردوں گا۔ ذات پات، طبقے، زبان، عقیدے کی تفریق سے اوپر اٹھ کر ہندو سماج کو ہم آہنگ، مضبوط اور ناقابل تسخیر بنانے کے لیے اپنی پوری طاقت سے کام کروں گا۔









