نئی دہلی :(ایجنسی)
کیا منی لانڈرنگ ایکٹ کا استعمال غلط طریقے سے کیا جارہاہے؟ بھارت کے چیف چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمن نے آج انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کو جو انتباہ دی ہےاس سے تو کم از کم ایسا ہی لگتا ہے ۔ انہوں نے منی لانڈرنگ پر قابو پانے کے لیے قانون کے اندھا دھند استعمال کے خلاف ای ڈی کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون اپنی برتری کھو دے گا۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ اس وقت قانون کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورتوں میں بھی جہاں روپے کی معمولی رقم موجود ہے۔ سی جے آئی رمن نے کہا، ‘آپ تمام لوگوں کو سلاخوں کے پیچھے نہیں ڈال سکتے۔ آپ کو اس کا صحیح استعمال کرنا ہوگا۔
عدالت نے یہ تبصرہ اس وقت کیا جب وہ منی لانڈرنگ سے متعلق دو مقدمات کی سماعت کر رہی تھی۔پی ایم ایل اے پر ایک معاملے کی سماعت کرتے ہوئے سی جے آئی رمن نے کہاکہ :’ آپ ایکٹ ( منی لانڈرنگ کی روک تھام قانون) کو کمزور کررہے ہیں۔ صرف اس معاملے میں نہیں۔ اگر آپ اسے 10,000روپے کے معاملے اور 100 روپے کے معاملے میںہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کرتے ہیں تو کیا ہوگا؟ سی جے آئی رمن نے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو سے کہاکہ اگرآپ اسے ہر معاملے میں استعمال کرنا چاہتے ہیں تویہ کام نہیں کرتا ہے۔ یہ اس طرح سے کام نہیں کرتاہے ۔









