وارانسی :(ایجنسی)
وزیر اعظم نریندر مودی نے 13 دسمبر کو اپنے پارلیمانی حلقہ وارانسی میں کاشی وشوناتھ دھام کا افتتاح کیا۔ وہیں کاشی میں پی ایم مودی کی آمد سے قبل شاندار تیاریاں کی گئی تھیں۔ اس دوران پی ایم مودی جس راستے کا افتتاح کرنے والے تھے اس پراس دوران پڑنے والی تمام عمارتوں کو ایک ہی رنگ میں پینٹ کیا گیا، جس میں ایک مسجد بھی شامل تھی۔ اس دوران سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے جس میں ایک شخص مسجد کو بھگوا رنگ میں دیکھ کر جذباتی ہو گیا۔
واضح رہے کہ منظر عام پر آنے والی ویڈیو میں نوشاد عالم نامی شخص مسجد کا رنگ بدلنے کو لے کر کہا رہا ہے ’ میں کولکاتاسے آیا ہوں ،وزٹرہوں۔ مجھے سمجھ نہیں آر ہا ہے کہ مندر کو بہت بڑا بنا گیا ہے اور مسجد کو ڈھانپ دیا گیا ہے، یہ کیا ہے، میں اس درد محسوس کر رہا ہوں۔ یہ ناقابل برداشت ہے۔ یہ ہندوستان ہے، جمہوریت میں سب کو برابر کے حقوق حاصل ہیں۔ ایک چیز کو ڈھانپ کر اور دوسری کو بڑا کردیں۔ یہ ٹھیک نہیں ہے۔
بتادیں کہ یہ شخص اپنی بات کہتے ہوئے رونے لگا۔ اس نے روتے ہوئے کہاکہ ’’ ترقی کی بات چھوڑیئے ،یہاں لوگوںکے حقوق کو دبا دیا گیاہے۔‘‘ شخص نے کہاکہ ’’میں یہاں پہلی بار آیا ہوں ، یہاں پہلی بار نماز ادا کی ہے۔ اسے دیکھ کر جو دکھ ہوا ہے، میں نے اپنی 40 سال کی زندگی میں ایسا دکھ کبھی نہیں اٹھایا ۔‘‘ بتادیں کہ یہ ویڈیو کاشی وشوناتھ دھام کے افتتاح کے دوران کی بتائی جارہی ہے۔ اس ویڈیو کو بی جے پی دہلی ترجمان اجے سہراوت نے شیئر کیا ہے ۔
مسجد کمیٹی سے نہیں لی گئی اجازت:
قابل ذکر ہے کہ کاشی میں انجمن انصافیہ مسجد کمیٹی کے محمد اعجاز اصلاحی نے مسجد کا رنگ تبدیل کرنے کے بارے میں بتایا تھا کہ مسجد پہلے سفید رنگ کی تھی، جس پر زعفرانی رنگ کردیا۔ تاہم ایسا کرنے سے پہلے مسجد کمیٹی سے اجازت نہیں لی گئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایک سازش کے تحت راتوں رات مسجد کا رنگ تبدیل کر دیا گیا۔
فی الحال اس واقعہ کو لے کر بڑھتے ہوئے ہنگامے کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے مسجد کو دوبارہ سفید رنگ کردیا تھا۔ وارانسی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (وی ڈی اے) کے سکریٹری اور کاشی وشوناتھ مندر کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر سنیل ورما نے کہا تھا کہ وشوناتھ مندر کی طرف جانے والی سڑک پر موجود عمارتوں کو یکسانیت دکھانے کے لیے ایک ہی رنگ میں پینٹ کیا جا رہا ہے۔









