مونگیر: (پریس ریلیز )
جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر میں صحافت کا شعبہ قائم کیا گیا ہے۔ جس کے تحت ابھی ششم ہفتم اور دورہ کے خواہش مند طلبا کو ابلاغ عامہ اور صحافت یعنی ماس کمیونی کیشن اینڈ جرنلزم کاایک سالہ ڈپلومہ کورس کرایا جا رہا ہے۔ساتھ ہی فکر و نظر آفیشیل کے نام سے یو ٹیوب چینل بھی بنایا گیا ہے۔ جس پر اہم خبروں اور تجزیوں کے ساتھ طلبہ عملی مشق بھی کریں گے۔
تقریب کی صدارت امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیرنے کی ۔ خانقاہ رحمانی کی پروقاراور حسین مسجد میں تقریب کا انعقاد ہوا۔حضرت امیر شریعت نے اپنے صدارتی خطاب میں صحافت کی تمام باریکی اور کنہ پر مفصل و مدلل خطاب فرماتے ہوئے جامعہ رحمانی کی پوری میڈیا ٹیم کو ترغیب دیا کہ ایک صحافی کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ صادق اور امین ہو۔اپنی تقریر میں مولانا نے قرآن و حدیث کی روشنی میں صحافیوں کو سمجھایا کہ صحافت کے جو بنیادی اصول ہیں یہ در اصل اور درحقیقت اسلامی تعلیمات کا حصہ ہیں تاہم صحافیوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ معروضیت کی بنیاد پر خبروں کا انتخاب کریں اور سچائی کو اپنی منزل تسلیم کریں۔
تقریب میں جامعہ رحمانی کے اساتذہ کرام نے خطاب کیا اور ’’دور جدید کی صحافت اور علما کا صحافی بننا وقت کی اہم ضرورت‘‘ کے عنوان پر جامع روشنی ڈالی۔تقریری سلسلہ کا آغاز شعبہ صحافت کے ایچ او ڈی صحافی فضل رحماں رحمانی نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ دین انہیں علما اور مسجد و محراب کی وجہ سے زندہ ہے ، اگر یہ علما صحافتی باریکیوں کو پیشہ ورانہ اصولوںکے ساتھ سیکھ کر برتیں گے تو یہ دین کے بقا کی جنگ میں اہم رول ہوگا۔ان کے بعد جامعہ رحمانی کے جنرل سکریٹری الحاج مولانا محمد عارف رحمانی نے اپنی تقریر میں کہا کہ جامعہ رحمانی اور خانقاہ مونگیر تحریکات کے مراکز ہیں۔ یہاں کے علما جب صحافتی میدان میں بھی اتریں گے تو یہ ڈٹ کر باطل کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔
ان کے بعد مولانا نورالدین ندوی ازہری نے بین الاقوامی میڈیا اور بھارتی میڈیا کے درمیان فرق سمجھاتے ہوئے آج کے دور میں مطلوبہ صحافت پر بہت ہی جامع روشنی ڈالی۔ ان کے بعد مولانا خالدرحمانی ناظم تعلیمات برائے امور طلبہ نے بھی صحافت وقت کی اہم ضرورت پر مفصل و مدلل خطاب کیا۔
مولانا ظفر عبدالرؤف رحمانی جنرل سکریٹری رحمانی فاؤنڈیشن مونگیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کے اس پر فتن دور میں قلم کے جہاد کی ضرورت ہے اور علما صحافی بن کر اس فریضہ کو بخوبی انجام دے سکتے ہیں۔مولانا عبدالاحد رحمانی ازہری نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ آج کی مین اسٹریم میڈیا اپنی ذمہ داریوں کو بالائے طاق رکھ کر حکومت کی چاپلوسی، عوام کو بیوقوف بنانے اور مسلمانوں کو بدنام کرنے میں لگی ہوئی ہے، ایسے دور میں ہمارے لیے اپنا میڈیا ادارہ قائم کرنا وقت کی اشد ضرورت ہے۔
اس موقع پر مفتی ریاض احمد قاسمی استاذ حدیث جامعہ رحمانی مونگیر نے صحافتی اصولوں پر جامع خطاب کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے شہید صحافی ایک مولوی ہیں جن کا نام مولوی محمد باقر دہلوی ہے۔ ہم بھی مولوی ہیں اور ہم بہترین صحافی بن کر عوام کی سچی ترجمانی کر سکتے ہیں۔مولانا موصوف کے بعد مولانا عبدالدیان رحمانی ناظم تعلیمات جامعہ رحمانی مونگیر نے جامعہ اور خانقاہ کی علمی خدمات پر روشنی ڈالی اور صحافتی مشن کے آغاز پر مسرت کا اظہار کیا۔تقریری سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئے مولانا جمیل احمد مظاہری نے بھی بہت ہی پر مغز اور جامع خطاب فرمایا ساتھ ہی انہوں نے صحافی فضل رحمٰں رحمانی کو اس شعبہ کا ہیڈ بنائے جانے پر خوشی کا اظہار کیا۔
آخری مرحلے میںجامعہ رحمانی کے استاذالاساتذہ مولانا عبدالسبحان رحمانی نے کہا کہ خانقاہ رحمانی پر ہمیشہ سے اللہ کا فضل رہا ہے اور یقیناً اس شعبہ کا آغاز بڑے نازک وقت میں کیا گیا ہے۔ مستقبل میں اس شعبہ کو حضرت امیر شریعت کی بڑی حصولیابی کے طور پر دیکھا جائےگا۔ ان شاء اللہ۔









