نئی دہلی: (ایجنسی)
اسلامک اسکالر ذاکر نائک کے اسلامی ریسرچ فاؤنڈیشن(آئی آر ایف) کے خلاف قانونی لڑائی لڑنے کی تیاری کومرکزکی مودی حکومت مزید تیز کرنے میں مصروف ہوگئی ہے۔ مرکزی حکومت نے آن لاءفل ایکٹیویٹی پرونشن ایکٹ 1967کی دفعہ 3 (1) کے التزامات کے تحت آئی آرایف کو غیر قانونی اعلان کیاتھا۔ آئی آر ایف کو ایک غیر قانونی ایسو سی ایشن اعلان کرنے کےاپنے فیصلے کےبچاؤ کے لیے سالیسٹرجنرل تشارمہتا کی قیادت میں سات رکنی وکلاء کی ٹیم کی تشکیل دی گئی ہے۔ ایس جی مہتا کےعلاوہ اس ٹیم میں سینئر ایڈووکیٹ سچن دتا، امت مہاجن، رجت نائیر،کانو اگروال، جے پرکاش اوردھرو پانڈےشامل ہیں۔
ویب سائٹ پردہ فاش کی خبر کے مطابق مرکزی وزارت داخلہ نے اپنے نوٹیفکیشن میں کہا ہے کہ آئی آر ایف ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہے جو ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہےکہ یہ سرگرمیاںامن وامان اورفرقہ وارانہ ہم آہنگی کوبگاڑنےکے ساتھ ساتھ ملک مذہبی تانے بانے کو خراب کر سکتے ہیں۔ وزرات کے مطابق ڈاکٹر ذاکر نائک اشتعال انگیزبیان دیتے ہیں جسے دنیا بھرمیں کروڑوں لوگ دیکھتے ہیں۔ بتادیں کہ ذاکرنائک پیس ٹی وی اور پیس ٹی وی اردو نام سے دوٹیلی ویژن اسٹیشن چلاتےہیں۔ دونوں چینل بھارت ، بنگلہ دیش،سری لنکا ،کناڈا اور یونائٹیڈ کنگڈم میں بین ہے۔ اےاین آئی نے ذاکرنائک کے خلاف جانچ شروع کرنے والی تھی، اس سے پہلے 2016 میں وہ ملیشیا چلے گئے۔









