نئی دہلی: (ایجنسی)
اس اعلان کے چند دن بعد کہ وہ فعال سیاست چھوڑ رہے ہیں، لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ساتھ رہیں گے، ’میٹرو مین‘ ای سری دھرن نے پارٹی کی کیرالہ یونٹ کو ایک مشورہ دیا ہے:’ہندوتوا کی سیاست چھوڑدیںاورتمام طبقات کےمفاد کا خیال رکھیں۔‘
دی پرنٹ سے بات کرتے ہوئے، سری دھرن، جو اس سال اسمبلی انتخاب میں بی جے پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑکرناکام رہے، نے زور دے کہا کہ کیرالہ میں ’لو جہاد‘ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ریاستی یونٹ نے اسے اہم انتخابی مسئلہ بنایا تھا۔ بی جے پی نے سری دھرن کو پارٹی کا وزیراعلیٰ امیدوار بھی بنایا تھا۔
انہوں نے کہاکہ انہیں اپنے رویہ میں تھوڑا بدلاؤ لاناہوگا۔ مثال کے طور پر بی جے پی کو ہندو ازم اور ہندوتوا کو بہت زیادہ فروغ نہیں دینا چاہیے۔ انہیں یہ پیغام ضرور دینا چاہیے کہ وہ کیرالہ کے تمام لوگوں کے لیے ہیں نہ کہ صرف ہندوؤں کے لیے اور تمام طبقات کے مفادات ان کے ذہن میں ہونے چاہئیں۔ اسی بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے۔
کیرالہ بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کھل کر وزیر اعظم نریندر مودی کی تعریف کی۔
سری دھرن نے کہا، ٹھیک ویسے ہی جیسے ہمارےاپنے پی ایم کررہےہیں…. ہمارے پی ایم کبھی ہندوتوا کی بات نہیںکرتے، وہ کبھی ایسی بات نہیںکرتے کہ وہ کسی طبقہ خاص کےلوگوںکے ساتھ کھڑے ہیں۔ وہ بھارت کےتمام لوگوںکے لیے ہیں ۔ ہمیں بھی وہی رویہ اپنانا چاہئے ۔ تاہم، انہوں نے دہرایا کہ وہ صرف بڑھاپے کی وجہ سے فعال سیاست چھوڑ رہے ہیں اور بی جے پی سے باہر نہیں جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ‘میں پارٹی کے لیے حاضر رہوں گا، لیکن میں اس لحاظ سے سرگرم نہیں رہوں گا کہ کوئی الیکشن نہیں لڑوں گا اور ہڑتال جیسی چیزوں میں حصہ نہیں لوں گا۔ میں بی جے پی کے لیے دستیاب ہوں۔ میرا علم اور مضامین کامیرا تجربہ…وہ دستیاب ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج کیرالہ میں بی جے پی ہی واحد آپشن ہے۔ ’لوگ موجودہ یوڈی ایف حکومت سے تھک چکے ہیں۔ یو ڈی ایف، کانگریس اور مسلم لیگ بالخصوص ان کی مقبولیت بہت تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ یہ بی جے پی کے لیے کیرالہ میں طاقت حاصل کرنے اور فیصلہ کن طاقت بننے کا ایک اچھا موقع ہے۔ یہ ممکن ہے اسی لیے میں نے کہا کہ کیرالہ میں بی جے پی کے امکانات بہت اچھے ہیں۔









